“مجھے ان کے بڑے بڑے دعوے سن کر صرف مزہ آتا ہے، میں اس پر کچھ اور نہیں کر سکتا۔ ایسی باتیں صرف وہی کر سکتے ہیں۔ اور جو شخص تین بیویوں کو سنبھال سکتا ہے، میری رائے میں وہ عوام کو بھی سنبھال سکتا ہے کیونکہ ایک بیوی پوری سیاست ہوتی ہے۔ یہ بات یونیورسٹی میں بطور مضمون پڑھائی جانی چاہیے۔ اس لیے جو تین بیویوں کو سنبھال چکا ہو، وہ شاید اچھا سیاستدان بھی بن سکتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں نہ وہ اور نہ ہی کوئی اور اس وقت پاکستان کی آخری امید ہے۔”
پاکستانی گلوکار اور سیاستدان ابرار الحق ایک بار پھر اپنے دلچسپ اور بے باک اندازِ گفتگو کی وجہ سے خبروں کی زینت بن گئے ہیں۔ حال ہی میں وہ مزاحیہ اور ٹاک شو میں شریک ہوئے، جس کی میزبانی اداکار اور میزبان محسن عباس حیدر کر رہے تھے۔
اس پروگرام کے دوران انہوں نے اپنے مخصوص طنزیہ انداز میں سیاسی عزائم رکھنے والی شخصیات پر تبصرہ کیا اور خاص طور پر جواد احمد اور ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے بارے میں رائے دی۔
جواد احمد کے اس دعوے کے حوالے سے کہ اگر کوئی مزدور اقتدار میں آئے تو وہ ایک تولہ سونا کما سکے گا، ابرار الحق نے کہا کہ وہ ایسے بڑے دعوے سن کر صرف لطف لیتے ہیں، کیونکہ ان کے مطابق یہ باتیں حقیقت سے زیادہ خواب محسوس ہوتی ہیں۔
انہوں نے اقرار الحسن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ان کی نجی زندگی پر بھی مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا اور کہا کہ جو شخص اپنی ذاتی زندگی میں تین رشتے کامیابی سے سنبھال سکتا ہے، وہ شاید عوامی معاملات بھی بہتر انداز میں چلا سکتا ہے، کیونکہ سیاست بھی کسی حد تک ایک مکمل انتظامی فن ہے۔
پروگرام میں جب ان سے سوال کیا گیا کہ جاوید احمد اور اقرار الحسن میں سے پاکستان کی “آخری امید” کون ہے، تو ابرار الحق نے واضح طور پر کہا کہ ان کی نظر میں ان دونوں میں سے کوئی بھی اس وقت ملک کی آخری امید نہیں ہے، اور اصل مسئلہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔