دنیا سے الگ تھلگ، محفوظ اور مہمان نواز: دنیا کے پانچ محفوظ ترین ممالک میں خاص کیا ہے؟

تازہ گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق دنیا پچھلے سال کی نسبت کم پُرامن ہو گئی ہے۔ تاہم اس بگڑتی ہوئی صورتحال کے باوجود چند ممالک اب بھی نمایاں ہیں۔
تازہ گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق دنیا پچھلے سال کی نسبت کم پُرامن ہو گئی ہے
Getty Images
تازہ گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق دنیا پچھلے سال کی نسبت کم پُرامن ہو گئی ہے

گلوبل پیس انڈیکس کے مطابق دنیا گذشتہ سال کے مقابلے میں اب نسبتاً کم پُرامن ہو گئی ہے۔ مجموعی طور پر دنیا کے 99 ممالک میں امن کی صورتحال خراب ہے۔

تاہم امن و امان کی اِس بگڑتی صورتحال کے باوجود چند ممالک ایسے ہیں جو اس بدامنی کے اثرات سے نسبتاً محفوظ رہے ہیں۔

انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کے بانی اور ایگزیکٹیو چیئرمین سٹیو کیلیلیا نے سنہ 2007 میں گوبل پیس انڈیکس تیار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’اگرچہ ہمیں امن و امان کی تباہ کُن صورتحال دیکھنے کو ملی ہے مگر گلوبل پیس انڈیکس میں سرفہرست ممالک پر اس کا زیادہ اثر نہیں پڑا۔‘

یہ انڈیکس 163 ممالک کی درجہ بندی 23 اشاریوں کی بنیاد پر کرتا ہے، جن میں فوجی اخراجات، جاری تنازعات، قتل کی شرح اور تحفظ کا احساس شامل ہیں۔

جو ممالک بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں وہ عموماً کم تشدد، مضبوط اداروں، سماجی اعتماد کی بلند سطح، ہمسایوں سے اچھے تعلقات اور اعلیٰ معیار زندگی کا امتزاج رکھتے ہیں۔

ہم نے اس فہرست میں شامل دنیا کے پانچ محفوظ ترین ممالک کے رہائشیوں سے بات کی ہے تاکہ معلوم ہو کہ روزمرہ زندگی میں یہ تحفظ انھیں کیسا محسوس ہوتا ہے۔

1۔ آئس لینڈ

آئس لینڈ کے ڈرامائی مناظر اور کم آبادی اس کے اعلیٰ معیار زندگی میں اہم کردار نبھاتے ہیں
Getty Images
آئس لینڈ کے ڈرامائی مناظر اور کم آبادی اس کے اعلیٰ معیار زندگی میں اہم کردار نبھاتے ہیں

آئس لینڈ سنہ 2008 سے پیس انڈیکس کے سرفہرست ممالک میں شامل ہے اور یہ گذشتہ 18 برسوں سے دنیا کا محفوظ ترین ملک رہا ہے۔

سنہ 2026 میں اس کی کارکردگی میں مزید دو فیصد بہتری آئی ہے۔ یہ ملک آج بھی تحفظ، تنازعات کی کم شرح اور محدود عسکری منصوبوں کے حوالے سے نمایاں ہے۔

’وزٹ آئس لینڈ‘ کی سربراہ اوڈنی آرنارسڈوتیر نے کہا کہ ’آئس لینڈ میں امن ہمارے ارد گرد موجود فطرت میں بھی محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ایک شعوری انتخاب بھی ہے جو ہماری قریبی کمیونٹیز سے جڑا ہے۔‘

وہ ’مساوات کے مضبوط عزم‘ کو اہم قرار دیتی ہیں جس میں صنفی برابری بھی شامل ہے جہاں آئس لینڈ مسلسل عالمی سطح پر نمایاں رہتا ہے۔ اس کے ساتھ مضبوط عوامی خدمات اور وسیع قابل تجدید توانائی کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔

رہائشی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ عزم محض پالیسی سے آگے کی بات ہے اور سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ ذمہ داری کا مضبوط احساس اِس کا حصہ ہے۔

آرنارسڈوتیر کے مطابق ’ہمیں اس امن کے احساس کا تجربہ کرنے پر اپنی خوش قسمتی کا خوب علم ہے۔ یہ ایک کھلے اور شمولیتی معاشرے کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔‘

اس کی دور افتادہ جغرافیائی صورتحال بھی اس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ہوٹل رنگا کی مارکیٹنگ مینیجر ایرون انیتا گل فادوتیرنے کہا کہ ’آئس لینڈ کی جغرافیائی تنہائی اسے عالمی کشیدگیوں سے بڑی حد تک دور رکھتی ہے۔ وسیع کھلے مناظر، شاندار پہاڑ، صاف ہوا اور وافر میٹھا پانی یہاں کے معیار زندگی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔‘

آئس لینڈ کی پرسکون رفتار کو محسوس کرنے کے لیے آرنارسڈوتیر مشورہ دیتی ہیں کہ یہاں آ کر زیادہ سے زیادہ باہر وقت گزاریں۔

یہاں مسافر ’بیدنگ کلچر‘ کا بھی تجربہ کر سکتے ہیں جہاں 120 سے زیادہ جیوتھرمل تالاب، لگژری سپا اور سوئمنگ پولز موجود ہیں، جہاں مقامی لوگ سال بھر جمع ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق آئس لینڈ کے سکون کا تجربہ فلاح و بہبود سے جڑا ہے، چاہے وہ جیوتھرمل پولز ہوں، فطرت میں وقت گزارنا ہو یا صرف الگ ہو کر آرام کرنا۔

سیاحوں کو چاہیے کہ معروف مقامات سے آگے بھی جائیں۔ آرنارسڈوتیر آئس لینڈ میں موجود 220 سے زیادہ عجائب گھروں کا ذکر کرتی ہیں، جن میں دارالحکومت کا نیشنل میوزیم اور ویسٹ فیورڈز کا آئس لینڈک سی مونسٹر میوزیم شامل ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ہمارے منفرد عجائب گھر بہت پسند ہیں۔ یہ مقامی کہانیوں اور روایات کو شیئر کرتے ہیں اور لوگوں کو ملک کے مختلف حصوں کا تجربہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔‘

2۔ نیوزی لینڈ

نیوزی لینڈ کے شہروں اور قصبوں میں فطرت تک آسان رسائی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت ہے
Getty Images
نیوزی لینڈ کے شہروں اور قصبوں میں فطرت تک آسان رسائی زندگی کی ایک نمایاں خصوصیت ہے

سنہ 2025 میں تیسرے نمبر سے بڑھ کر دوسرے نمبر پر آنے والا نیوزی لینڈ ایشیا پیسیفک خطے کا محفوظ ترین ملک ہے جہاں جاری تنازعات کی تعداد سب سے کم ہے۔

انڈیکس کی اِس بہتری میں نیوزی لینڈ کی اسلحے کی درآمدات میں کمی نے بڑا کردار ادا کیا اور یہ اب بھی دنیا کے کم ملٹررائزڈ اور محفوظ ممالک میں شامل ہے۔

اس کے امن کی بڑی وجہ جغرافیہ ہے۔

این زیڈ گولڈن ویزا کے بانی واروک وڈلی نے کہا کہ دنیا سے دور ہونا نیوزی لینڈ کو ان جغرافیائی سیاسی مسائل سے بچاتا ہے جو دیگر ممالک کو تنازعات میں الجھا دیتے ہیں۔

وہ ثقافت کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں لوگ عموماً پُرسکون اور سیدھے سادہ ہیں اور معاملات کو ہوا دینے کے بجائے نمٹانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

’یہاں تحفظ اس قدر معمول کی چیز ہے کہ اکثر اس کا احساس ہی نہیں ہوتا۔‘

وڈلی کے مطابق زیادہ تر لوگ اس بارے میں زیادہ نہیں سوچتے اور یہی اس بات کی بہترین علامت ہے کہ یہ عام طور پر مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں روزمرہ زندگی میں بندوقیں شامل نہیں اور کرائسٹ چرچ کے واقعے کے بعد قوانین مزید سخت ہو گئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آس پڑوس میں لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہیں اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔‘

پچاس لاکھ آبادی والے ملک میں یہ احساس ذمہ داری اہم ہے۔ کم آبادی کا مطلب فطرت تک آسان رسائی بھی ہے۔

وڈلی کے مطابق یہاں پہاڑ، ساحل اور جنگلاتی راستے سب دستیاب ہیں۔ زندگی اتنی تیزی سے ہاتھ سے نکلتی محسوس نہیں ہوتی جتنی بڑے اور مصروف ممالک میں ہوتی ہے۔

3۔ سوئٹزرلینڈ

سوئٹزر لینڈ میں لوگ سماجی ہم آہنگی اور مفاہمت کو اہم سمجھتے ہیں
Getty Images
سوئٹزر لینڈ میں لوگ سماجی ہم آہنگی اور مفاہمت کو اہم سمجھتے ہیں

گذشتہ سال پانچویں نمبر سے بڑھ کر 2026 میں تیسرے نمبر پر آنے والا سوئٹزرلینڈ جرائم کی کم شرح اور فوجی غیرجانبداری کی طویل پالیسی کے باعث دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شامل ہے۔

جنیوا میں رہنے والی ایگزیکٹیو کوچ اور مصنفہ کارنیلیا چوے نے کہا کہ ’یہاں لوگ ایک دوسرے کے لیے جگہ بنانے کو تیار نظر آتے ہیں۔ اس سے اعتماد پیدا ہوتا ہے اور یہ یقین بھی کہ لوگ عموماً درست کام کریں گے اور روزمرہ زندگی زیادہ تر ٹھیک چلتی رہے گی۔‘

شاید امن کا مطلب بھی یہی ہے، یعنی اختلافات کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اُن کے ساتھ بہتر طریقے سے جینے کا مشترکہ عزم۔

یہ اعتماد روزمرہ معاملات میں دکھائی دیتا ہے۔

چوے بتاتی ہیں کہ ’میں نے سوئٹزرلینڈ میں دو بار اپنا پرس کھویا۔ پہلی بار ایک اجنبی نے چند دنوں میں اسے واپس بھیج دیا، اور اس میں موجود رقم بھی محفوظ تھی۔

’برسوں بعد جب میں نے ریلوے سٹیشن پر اپنا کریڈٹ کارڈ گِرا دیا تو جس شخص کو یہ ملا اس نے بینک سے رابطہ کر کے کارڈ بلاک کروا دیا، تاکہ جس کا کارڈ کھویا ہے وہ دھوکہ دہی سے بچ سکے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’بظاہر یہ چھوٹے واقعات ہیں لیکن یہ دیرپا اثر چھوڑتے ہیں اور ایک قیمتی احساس تحفظ پیدا کرتے ہیں۔‘

اس امن کا اندازہ لگانے کے لیے سیاحوں کو کام اور ذاتی زندگی کے توازن کو اپنانا چاہیے۔ مثال کے طور پر کئی کاروبار دوپہر میں دو گھنٹے کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔

ملک کی چار قومی زبانوں اور مختلف علاقائی شناختوں کو سمجھنا بھی اہم ہے۔

چوے کے مطابق معاشروں کو مضبوط ہونے کے لیے ہر چیز پر متفق ہونا ضروری نہیں۔ ’میں نے دیکھا ہے کہ یہاں مفاہمت اور عملی حل کی روایت موجود ہے۔‘

4۔ سلووینیا

سلووینیا میں لوگ فطرت، کام اور زندگی کے توازن اور اہل خانہ و دوستوں کے ساتھ وقت کو اہمیت دیتے ہیں
Getty Images
سلووینیا میں لوگ فطرت، کام اور زندگی کے توازن اور اہل خانہ و دوستوں کے ساتھ وقت کو اہمیت دیتے ہیں

پہلی بار ٹاپ فائیو میں شامل ہونے والے ملک سلووینیا کی مضبوط کارکردگی کم فوجی اخراجات اور بہتر تحفظ پر مبنی ہے۔

انٹریپڈ ٹریول میں مشرقی یورپ کی آپریشنز مینیجر جرنیجا زیور نے کہا کہ سلووینیا میں کمیونٹی کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور لوگ فطرت میں کافی وقت گزارتے ہیں، جس سے سکون کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

وہ ہفتے کے آخر میں زیادہ تر وقت باہر گزارتی ہیں، چاہے وہ ہائیکنگ ہو، سائیکلنگ، سکیئنگ یا دوستوں اور خاندان کے ساتھ ملاقات۔

ان کے مطابق کام اور زندگی کے توازن پر زور ایسے تعلقات کے لیے جگہ بناتا ہے جو وابستگی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

زیور کہتی ہیں کہ دنیا کے کئی حصوں میں تنازعات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود ’میں خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ سلووینیا میرا گھر ہے۔ میں اب ان چھوٹی چیزوں کی قدر کرتی ہوں جنھیں پہلے شاید معمول سمجھتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ فطرت کا نظارہ کریں۔ اس میں ’دریا پر وائٹ واٹر رافٹنگ، بلیڈ کے قریب ونتگار گھاٹی کے آبشار دیکھنا یا پہاڑی چراگاہوں میں سائیکلنگ شامل ہو سکتی ہے۔‘

ان کے مطابق سلووینیا میں آپ ’جو بھی کریں، لوگوں کی مہمان نوازی، خوبصورت مناظر اور فطرت آپ کو متاثر کرے گی، اور یقیناً بہترین کھانا بھی۔‘

5۔ آئرلینڈ

آئرلینڈ میں امن کا احساس اس کی غیرجانبداری اور مہمان داری کی ثقافت سے جڑا ہے
Getty Images
آئرلینڈ میں امن کا احساس اس کی غیرجانبداری اور مہمان داری کی ثقافت سے جڑا ہے

پانچویں نمبر پر موجود آئرلینڈ کم تشدد اور بین الاقوامی تنازعات میں محدود شمولیت کے باعث نمایاں ہے۔

ویسٹ کارک میں نیٹو نامی ہوٹل کی بانی ڈیڈی رونن نے کہا کہ ’ایک قوم کے طور پر آئرلینڈ کے تاریخی تجربے نے لوگوں کو تعصب کے خطرات اور دوسروں کے لیے کشادگی کی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔‘

وہ اس مہمان نوازی کی روایت کو بریہون قوانین سے جوڑتی ہیں، جن کے تحت اجنبیوں اور مسافروں کو خوراک اور پناہ دینا لازم تھا۔

ان کے مطابق یہ ’ہماری فطرت کا حصہ ہے۔‘

آئرلینڈ کی غیرجانبداری اسے عالمی سطح پر بھی پرامن بناتی ہے کیونکہ یہ غیر ملکی جنگوں یا فوجی اتحادوں میں شامل نہیں ہوتا۔

رونن کہتی ہیں کہ ’عالمی غیر یقینی صورتحال کے دور میں بحر اوقیانوس کے بیچ ایک دور دراز جزیرے پر ہونا، اچھی موسیقی، سیر اور کتابوں کے ساتھ، ایک سکون دیتا ہے۔ ہم اس نعمت کی قدر کرتے ہیں کیونکہ دنیا کے بہت سے لوگ شدید تکلیف اور ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

سیاحوں کے لیے آئرلینڈ کے پُرامن پہلو کو سمجھنے کا بہترین طریقہ فطرت ہے، چاہے وہ جنگلات میں چہل قدمی ہو یا ساحلوں پر۔

رونن مشورہ ہیں کہ ’کیپ کلیئر جزیرے تک فیری لیں، تھری کاسل ہیڈ میں قرون وسطیٰ کے کھنڈرات دیکھیں یا گلینڈور کے قریب پتھریلا دائرہ دیکھیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US