ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مفاہمت ایک دوطرفہ عمل ہے اور اگر امریکا مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کرے گا تو ایران بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔
اپنے بیان میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ غیر معقول بیانات، شیخی بگھارنے اور بے بنیاد دھمکیوں کے مقابلے میں ایران کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران فیصلہ سازی میں عقل، دانش اور انسانی وقار کو بنیادی اہمیت دیتا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع میں فیصلہ کن اور بے خوف مؤقف اختیار کرے گا۔
مسعود پزشکیان نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر کی رقم جلد ایران کو منتقل کر دی جائے گی۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر کے اثاثوں میں سے نصف رقم کی واپسی متوقع ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یہ پیش رفت موجودہ سفارتی مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آرہی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ علاقائی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور مختلف معاملات پر پیش رفت کا عمل جاری ہے۔