ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محمد باقر ذوالقدر نے کہا کہ شہید رہنما کی شہادت کے وقت ان کی بند مٹھی ایران کے قومی سلامتی کے نظریے اور مزاحمت کی مستقل علامت کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔
بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ سید علی خامنہ ای اور ایران کے دیگر شہدا کے خون کا حساب ابھی مکمل نہیں ہوا اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
محمد باقر ذوالقدر کا کہنا تھا کہ ان جرائم میں شریک افراد کے ساتھ ساتھ احکامات جاری کرنے والوں کو بھی مناسب وقت پر ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے بیان میں کہا تھا کہ والد کی وفات کے بعد جب انہوں نے ان کا جسد خاکی دیکھا تو ان کی مٹھی بند تھی جسے انہوں نے مزاحمت کی آخری نشانی قرار دیا تھا۔
دوسری جانب ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے واضح کیا ہے کہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں، میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی قومی سلامتی کی ریڈ لائنز ہیں اور ان معاملات پر امریکا سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق قائم مقام وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے موجودہ دفاعی نظام کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں میزائل اور ڈرون پروگرام کو مزید جدید اور مضبوط بنانے کا عمل بھی جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی طاقت ملک کی خودمختاری اور سلامتی کی ضمانت ہے، اس لیے اسے کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ ممکن ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف تکنیکی اور سفارتی امور پر بات چیت جاری ہے، تاہم ایرانی حکام مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مذاکرات صرف طے شدہ موضوعات تک محدود رہیں گے اور دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تہران دفاعی اور عسکری معاملات کو ناقابلِ مذاکرات تصور کرتا ہے، جبکہ میزائل اور ڈرون پروگرام کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی جزو قرار دیتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا حالیہ بیان مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے تناظر میں بھی اہمیت کا حامل ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ تہران قومی سلامتی کے معاملات پر اپنے مؤقف میں کسی تبدیلی کے لیے تیار نہیں۔