بھارتی ریاست کیرالہ میں دو نرسوں نے غیر معمولی حاضر دماغی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹریفک جام میں پھنسے دل کے مریض کی جان بچا لی۔ 43 سالہ شخص گاڑی چلاتے ہوئے اچانک بے ہوش ہو گیا تھا، تاہم بس میں سفر کرنے والی دو نرسوں نے فوراً صورتحال کو بھانپ لیا اور اس کی مدد کے لیے پہنچ گئیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی صبح ایرناکولم ضلع میں ایم سی روڈ پر کالڈی پل کے قریب پیش آیا، جہاں شدید ٹریفک کے باعث گاڑیاں رکی ہوئی تھیں۔ اسی دوران ایک کار کے گرد لوگوں کی بے چینی دیکھ کر بس میں موجود نرسوں کو اندازہ ہوا کہ کسی کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔
انجا مالی کے ایل ایف اسپتال میں تعینات اسٹاف نرس انجلی بائیجو اور بنگلورو میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کرنے والی طالبہ آردرا راج بس میں سفر کر رہی تھیں۔ دونوں نے تاخیر کیے بغیر بس سے اتر کر کار کی جانب دوڑ لگائی، جہاں ایک شخص ڈرائیونگ سیٹ پر بے ہوش پڑا تھا۔
مریض کی شناخت سینوج کے نام سے ہوئی، جو اوکل کے قریب تھنی پوزا میں لاٹری کی دکان چلاتا ہے۔ بتایا گیا کہ اسے سینے میں شدید درد محسوس ہوا تو وہ خود گاڑی چلا کر اسپتال جا رہا تھا، مگر راستے میں ٹریفک جام میں پھنس گیا۔ اسی دوران اس کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی اور وہ گاڑی کے اسٹیئرنگ پر ہی بے ہوش ہو گیا۔
دونوں نرسوں نے فوری طور پر اس کی حالت کا جائزہ لیا اور اسے سی پی آر دینا شروع کر دیا۔ بعد ازاں جب کار کو انجامالی کے ایک اسپتال کی طرف روانہ کیا گیا تو نرسوں نے سفر کے دوران بھی گاڑی کے اندر مریض کو سی پی آر دینا جاری رکھا، تاکہ اس کی سانس اور دل کی دھڑکن بحال رکھنے میں مدد مل سکے۔
اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے فوری طبی امداد دی، جس کے بعد مریض کی حالت میں بہتری کے ابتدائی آثار سامنے آئے۔ طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ اس کے دل کی ایک شریان بند تھی، جس پر ہنگامی بنیادوں پر انجیو پلاسٹی کی گئی۔
ڈاکٹروں کے مطابق مریض کو مزید علاج اور نگرانی کے لیے کسی بڑے طبی مرکز منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔ نرسوں کی فوری مدد اور بروقت سی پی آر کو مریض کی جان بچانے میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔