تمہاری وجہ سے میں ذلیل ہوئی، نیتن یاہو کی بیوی کے ہاتھوں سرِ عام درگت

image

یروشلم کے ٹیڈی اسٹیڈیم میں مکابیہ گیمز کی افتتاحی تقریب کے دوران انتظامی بے ترتیبی پر اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو کی اہلیہ سارا نیتن یاہو اپنے شوہر اور ان کے عملے پر برہم ہو گئیں۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جبکہ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی خبر رساں ویب سائٹ وائے نیٹ گلوبل کے مطابق تنازع وی آئی پی انکلوژر میں داخلے کے انتظامات سے متعلق شکایت کے بعد شروع ہوا۔ تقریب کے دوران سارا نیتن یاہو جب وی آئی پی حصے کی طرف جا رہی تھیں تو ہجوم میں کسی شخص کا پاؤں ان کے پاؤں پر آ گیا جس کے بعد وہ شدید ناراض دکھائی دیں۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے بعد سارا نیتن یاہو غصے کی حالت میں وی آئی پی لاؤنج پہنچیں، جہاں بینجمن نیتن یاہو اور ان کے قریبی عملے کے افراد موجود تھے۔ لاؤنج میں داخل ہوتے ہی انہوں نے بلند آواز میں اپنے شوہر سے شکایت کی اور کہا کہ انہیں وہاں لوگوں سے الجھنا پڑ رہا ہے اور اس صورتحال کا ذمہ دار انہیں قرار دیا۔

سارا نیتن یاہو نے اس کے بعد وزیراعظم کے عملے کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ان کی مناسب دیکھ بھال اور رہنمائی کی ذمہ داری عملے کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ کچھ دیر تک وہاں موجود افراد کے سامنے انتظامات اور سیکیورٹی سے متعلق اپنی ناراضی کا اظہار کرتی رہیں۔

ایک اسرائیلی صحافی نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر واقعے کی مختصر ویڈیو شیئر کی، جس میں مکمل گفتگو واضح طور پر سنائی نہیں دیتی، تاہم ویڈیو کے آخری حصے میں سارا نیتن یاہو کو ہاتھ کے اشاروں کے ساتھ ناراضی ظاہر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

وائرل فوٹیج میں بینجمن نیتن یاہو خاموش بیٹھے نظر آتے ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ ان کے سامنے شکایات کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسٹیڈیم میں داخلے کے وقت مناسب سیکیورٹی انتظامات اور رہنمائی نہ ہونے کے باعث سارا نیتن یاہو کو ہجوم میں دھکا لگا اور ایک شخص ان کے پاؤں پر بھی چڑھ گیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق وی آئی پی لاؤنج میں سارا نیتن یاہو کئی منٹ تک انتظامات پر ناراضی کا اظہار کرتی رہیں۔ سامنے آنے والی ویڈیو اس وقت بنائی گئی جب ماحول پہلے کے مقابلے میں کسی حد تک پرسکون ہو چکا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US