کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دیا جائے گا، ایران کی خامنہ ای کی تدفین سے قبل امریکا اور اسرائیل کو سخت وارننگ

image

ایران نے امریکا اور اسرائیل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی یا جارحیت کی گئی تو اس کا فوری اور طاقتور جواب دیا جائے گا۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور الوداعی تقریبات کے لیے سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات جاری ہیں۔

ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کے کمانڈر علی عبداللہی نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے بارے میں کسی غلط اندازے میں نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں دشمن کو فوری ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

علی عبداللہی کا کہنا تھا کہ ایران کے مخالفین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر انہوں نے جارحیت کی کوشش کی تو ایرانی افواج کی جوابی کارروائی سخت اور فیصلہ کن ہوگی۔ انہوں نے ایرانی عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ سابق سپریم لیڈر کی آخری رسومات میں بھرپور شرکت کر کے قومی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔

اس سے ایک روز قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ ایرانی عوام یا قیادت کے خلاف کسی بھی دھمکی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران اپنے شہریوں اور قیادت کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا اور ہر خطرے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

عباس عراقچی کا یہ ردعمل اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کے موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسرائیل کی نگرانی میں ہیں اور ممکنہ طور پر نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے تیار کی گئی خصوصی جنازہ بردار گاڑی کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو ان کے آبائی شہر مشہد میں روضۂ امام رضا کے احاطے میں ہوگی۔ ان کی آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی کو تہران سے کیا جائے گا جبکہ مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات اور یادگاری تقریبات بھی منعقد ہوں گی۔

ایران کے مقدس شہر قم کے علاوہ عراق میں بھی آیت اللہ علی خامنہ ای کی یاد میں مجالس اور تعزیتی پروگراموں کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان تقریبات میں بڑی تعداد میں عوام کی شرکت متوقع ہے، جس کے باعث ملک بھر میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

ایرانی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے بھی اعلان کیا ہے کہ تہران، مشہد اور چند دیگر اہم شہروں کی فضائی حدود میں عارضی پابندیاں لگائی جائیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات آخری رسومات اور عوامی اجتماعات کے دوران سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US