خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان کہتے ہیں کہ ’صوبائی حکومت ان پالیسیوں کی مخالفت کرتی ہے جس سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں اور جہاں تک بات وفاق کے ساتھ عدم تعاون کی ہے تو بلوچستان میں وفاق کی اتحادی حکومت ہے اور ایک مثالی تعلق پایا جاتا ہے وہاں حالات کیوں خراب ہیں؟‘
ہر طرف تباہی کا منظر تھا، لاشیں بکھری ہوئی تھیں۔۔۔ مسافر گاڑی پر دھماکے کے کچھ زخمیوں کو ایک اور گاڑی میں ہسپتال روانہ کیا گیا تو اس کے قریب ایک اور دھماکہ ہو گیا۔
یہ 20 جون کو خیبر پختوںخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل کے قریب ایک گاؤں کا منظر تھا، جہاں مسافر گاڑیوں پر یکے بعد دیگرے دو دھماکوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے تھے۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ پنگ گاؤں سے صرف دو گاڑیاں ہی شہر کی طرف جاتی ہیں اس لیے لوگ فجر کی نماز کے بعد مسافر گاڑی میں سوار ہو گئے تھے۔
یہ فاصلہ لگ بھگ 25 کلومیٹر ہے لیکن سڑک نہ ہونے کی وجہ سے وقت زیادہ لگ جاتا ہے۔ پنگ کا یہ علاقہ ضلع کرک کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
مقامی عمائدین کے مطابق ان عام شہریوں کو اس لیے نشانہ بنایا گیا، کیونکہ یہاں کے لوگ شدت پسندوں کو یہ علاقہ خالی کرنے کا کہتے رہتے ہیں۔
رواں برس خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ آخر کئی فوجی آپریشنز کے باوجود صوبے میں امن قائم کیوں نہیں ہو پا رہا۔
افغانستان کی سرحد کے قریب واقع باجوڑ، خیبر، لوئر اور وسطی کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور کلاچی میں بھی بد امنی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
پولیس کیا کر رہی ہے اور کیا اس اضافے کی وجہ وفاقی اور صوبائی حکومت کا ایک پیج پر نہ ہونا ہے؟
اس صورتحال میں امن کمیٹیوں کا کیا کردار ہے؟ اس حوالے سے بی بی سی نے گورنر خیبر پختوںخوا، صوبائی حکومت، پولیس اور امن کمیٹی کے عمائدین سے بات کی ہے۔
سنٹرل پولیس آفس کے ایک بیان کے مطابق ان تین ماہ میں پولیس پر 194 حملے ہوئے جن میں ایک 106 حملوں کو پسپا کیا گیا ہےوفاق اور صوبے کا ایک پیج پر نہ ہونے دہشت گردی بڑھنے کی وجہ؟
وفاق کی جانب سے یہ الزام مسلسل عائد کیا جاتا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت فوجی آپریشنز کے لیے تعاون نہیں کر رہی۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گلہ کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت فوجی آپریشنز کی تائید نہیں کرتی جس کی وجہ سے صوبے میں امن قائم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
’صوبائی حکومت کہیں بھی وفاق کے ساتھ نظر نہیں آ رہی، سیاسی اختلافات ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے کے حقوق کے لیے بھی بات نہ کی جائے۔‘
گورنر خیبر پختونخوا نے سوال اُٹھایا کہ کیا صوبائی حکومت نے اپنا مقدمہ وفاق کے سامنے رکھا ہے کہ صوبے میں کیا ہونا چاہیے؟ کیا اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلانے کے لیے اقدامات کیے گئے؟
خیال رہے کہ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ سال جولائی اور اگست میں باجوڑ کے لگ بھگ 20 دیہات خالی کرا کر یہاں فوجی آپریشن کیا تھا۔ اس کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ افراد نے نقل مکانی کی تھی۔
علاقے میں فوجی آپریشن مکمل ہونے کے بعد لوگوں کو واپس اپنے گھروں کو جانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن ان علاقوں میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
اس کے بعد رواں برس جنوری میں ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں فوجی آپریشن کی باتیں شروع ہوئیں اور اس کے لیے سخت سردی میں لوگوں نے نقل مکانی کی۔
اس دوران شدید بارشوں اور برفباری سے حادثات بھی پیش آئے اور ان لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان کہتے ہیں کہ ’صوبائی حکومت ان پالیسیوں کی مخالفت کرتی ہے جس سے عام لوگ متاثر ہوتے ہیں اور جہاں تک بات وفاق کے ساتھ عدم تعاون کی ہے تو بلوچستان میں وفاق کی اتحادی حکومت ہے اور ایک مثالی تعلق پایا جاتا ہے وہاں حالات کیوں خراب ہیں؟‘
گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں فوجی آپریشنز کی حمایت نہیں کرتی جس سے مسائل جنم لیتے ہیںپولیس اور امن کمیٹیوں کا کردار
انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق اس سال کے پہلے تین ماہ میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے نے مشترکہ طورپر شدت پسندوں کے خلاف 1087 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔
اُن کے بقول ان کارروائیوں کے دوران 108 شدت پسند اور اشتہاری ہلاک اور 283 کو گرفتار کیا گیا جن میں ایک اہم کمانڈر اور ایک خاتون بھی شامل ہے۔
سنٹرل پولیس آفس کے ایک بیان کے مطابق ان تین ماہ میں پولیس پر 194 حملے ہوئے جن میں سے 106 حملوں کو پسپا کیا گیا ہے
آئی جی خیبر پختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ ایک برس میں مسلح شدت پسندوں نے کواڈ کاپٹرز اور ڈرونز کے ذریعے 250 سے زیادہ حملے کیے اور ان میں سے 200 سے زیادہ بنوں ریجن میں ہوئے۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق اس سال کے پہلے تین ماہ میں پولیس اور انسداد دہشت گردی کے محکمے نے مشترکہ طورپر شدت پسندوں کے خلاف 1087 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کو بھی اب ڈرون کواڈ کاپٹرز، اینٹی ڈرون گن اور دیگر سامان فراہم کیا گیا ہے جس سے پولیس بہتر انداز میں شدت پسندوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔
بنوں میں پولیس امن کمیٹی کے رہنما حضرت اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت جنوبی اضلاعکو دہشت گردی کا سامنا ہے اور اس کے لیے پولیس فرنٹ لائن پر ہے اور پولیس کا نقصان ہو رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمیں عوام اور علما کا تعاون حاصل ہے اور اس میں شہری پولیس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
امن کمیٹی کے اراکین نے بتایا کہ بنیادی طور پر صرف بنوں میں دیہی سطح پر 22 امن کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور ان کا مقصد علاقے میں سہولت کاروں اور شدت پسندوں پر نظر رکھنا ہے اور جہاں بھی کوئی اطلاع موصول ہوتی ہے وہاں ان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔
شیری خان اس کمیٹی کے سوشل میڈیا کو دیکھتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر ابتدا میں صرف پانچ کمیٹیاں تھیں اور اب ان کی تعداد 22 ہو گئی ہے اور اس میں لوگوں کو علاقے میں جا کر یا سوشل میڈیا کے ذریعے بتایا جاتا ہے کہ قیامِ امن کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔
مئی میں فتح خیل پولیس چوکی پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرانے سے متعدد پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھےتیراہ سے نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات اور فوجی آپریشن پر ابہام
اس آپریشن کے لیے قائم کمیٹیکے اراکین کا کہنا تھا کہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد اپریل کے آخر تک لوگوں کو واپس اپنےعلاقوں کو بھیج دیا جائے گا۔
اب اپریل کے بعد مئی اور جون بھی گزر گئے ہیں لیکن اب تک تیراہ کے لوگوں کی واپسی نہیں ہو سکی۔
اس کمیٹی کے ایک رکن کمال الدین نے بتایا کہ اس بارے میں متعلقہ حکام سے رابطے جاری ہیں لیکن اب تک ان کی واپسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
تو کیا فوجی آپریشن ہوا ہی نہیں؟
اس بارے میں گورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ تیراہ آپریشن سیاسی بیانات کی نذر ہو گیا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہسردیوں میں تیراہ کے لوگ عام طور پر نقل مکانی کرتے ہیں اس مرتبہ آپریشن کی وجہ سے زیادہ لوگوں نے نقل مکانی کی ہے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کے آپریشن نہیں ہو رہا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے لیے صوبائی حکومت کو کردار ادا کرنا چاہیے اور اس کے لیے ایپکس کمیٹی کے اجلاس بلائے جائیں تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جائے۔
شفیع جان دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی آپریشن کبھی بھی کامیاب نہیں رہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان کا کہنا تھا کہ جب تیراہ میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا گیا تو صوبائی حکومت نے آپریشن کے لیے تمام ضروری معاونت کی اور لوگوں کو نقل مکانی کے دوران سہولیات دی گئیں۔
اُنھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے کابینہ سے فنڈ بھی منظور کرایا گیا، لیکن پھر بھی فوجی آپریشن نہیں ہوا اور نقل مکانی کرنے والے لوگ اب تک دربدر ہیں۔
شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ ’لوگ فوجی آپریشنز کے خلاف ہیں اور اس سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں۔ اس وقت بنوں کے قریب بکا خیل اور ادھر تیراہ کے متاثرین کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تیراہ کے لوگوں کی واپسی ضرور ہو گی اور اس کے لیے رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں۔
شفیع جان دعویٰ کرتے ہیں کہ فوجی آپریشن کبھی بھی کامیاب نہیں رہے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔مئی سب سے پُرتشدد مہینہ
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق مئی 2026 میں پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہت خراب رہی جس کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شدت پسند حملوں میں اضافہ تھا۔
رواں برس خیبر پختونخوا کو امن و امان کے لحاظ سے ایک خطرناک اور پرتشدد صورتحال کا سامنا رہا ہے۔
کالعدم تحریکِ طالبان (ٹی ٹی پی) اور نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش) سے منسلک گروپوں اور افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی کو بھی دہشت گردی بڑھنے کی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔
ان دنوں میں جو بڑے واقعات پیش آئے ہیں ان میں نو مئی کو بنوں کے مضافات میں فتح خیل چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی سے حملہ کیا گیا اور پھر پولیس کے مطابق لگ بھگ 100 مسلح شدت پسند چوکی میں داخل ہو گئے۔ اس حملے میں 15 پولیس اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔
اس کے بعد اس علاقے میں پولیس نے دیگر سکیورٹی فورسز کے ہمراہ آپریشن کیا تھا جس میں شدت پسندوں کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا۔
رواں برس خیبر پختونخوا کو امن و امان کے لحاظ سے ایک خطرناک اور پرتشدد صورتحال کا سامنا رہا ہے۔شارٹ، میڈیم اور لانگ ٹرم پالیسیاں
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی ذمہ داری ٹی ٹی پی اور حافظ گل بہادر گروپ اور اتحاد المجاہدین پاکستان جیسی تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔
انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے بتایا کہ امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کے لیے لانگ ٹرممیڈیم ٹرم اور شارٹ ٹرم پالیسی پر کام ہو رہا ہے۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ کتنی تنظیمیں کن کن علاقوں میں متحرک ہیں اور ان کی کتنی تعداد ہے؟ اس کے جواب میں انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنی تنظیمیں ہیں اور ان کے ساتھ لوگوں کی تعداد کتنی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ بتانا مشکل ہے لیکن پولیس اور دیگر ادارے ان کے خلاًف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جو ایک جگہ پر آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔۔ گرمیوں میں یہ کہیں اور سردیوں میں کہیں اور رہتے ہیں، اس کے لیے پولیس انٹیلیجنس کے ذریعے ان کے خاتمے کی کوششیں کر رہی ہے۔‘