منگل کی شب جب ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی گفتگو سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہوتے ہوئے اچانک بند ہو گئی تو اس واقعے نے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں وسیع ردِعمل پیدا کیا، اور بعض مبصرین نے اسے امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر اختلافات میں شدت کی علامت قرار دیا۔
محمدباقر قالیباف کا ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کو دیا گیا انٹرویو، جو نشریات کے دوران منقطع کر دیا گیامنگل کی شب جب ایران کے چیف مذاکرات کار اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف کی گفتگو سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہوتے ہوئے اچانک بند ہو گئی تو اس واقعے نے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں وسیع ردِعمل پیدا کیا، اور بعض مبصرین نے اسے امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر اختلافات میں شدت کی علامت قرار دیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت اور سوالات و ابہامات کے جواب دینے کے لیے باقر قالیباف کیمرے کے سامنے آئے تھے۔
یہ انٹرویو پہلے سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔
انٹرویو کے ایک حصے میں وہ چند برس قبل ہونے والے اس معاہدے کا ذکر کر رہے تھے جس کے تحت جنوبی کوریا میں منجمد ایرانی اثاثوں کو قطر کے بینکوں کے ذریعے استعمال کیا جانا تھا۔ وہ سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ وہ ایران کے آزاد شدہ چھ ارب ڈالر کے اثاثوں سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔
وہ یہ وضاحت کر رہے تھے کہ یہ معاہدہ صرف خوراک اور ادویات جیسی ’بنیادی اور انسانی ہمدردی کی اشیا‘ کی درآمد کے لیے تھا کہ پروگرام کی نشریات اچانک منقطع ہو گئیں۔
ایران کے بعض ذرائع ابلاغ نے سرکاری ٹیلی وژن پر الزام لگایا کہ اس نے پروگرام کا ایک 20 منٹ کا حصہ مکمل طور پر سینسر کر دیا اور ایک اور 55 سیکنڈ کا حصہ بھی حذف کر دیا۔
اس 55 سیکنڈ کے حصے میں انھوں نے تصدیق کی تھی کہ حالیہ برسوں میں ایران نے عملاً اپنی تیل کی فروخت بنیادی اور انسانی ہمدردی کی اشیا، جیسے خوراک اور ادویات، درآمد کرنے کے امکان کے بدلے کی ہے؛ ایسی صورتِ حال جسے ’تیل کے بدلے خوراک‘ کہا جاتا ہے۔
ایران کے مذاکراتی وفد کے سربراہ کے انٹرویو کے بند کیے جانے پر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا میں وسیع ردِعمل سامنے آیا۔
پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن مجتبیٰ زارعی نے ایک نوٹ میں کہا کہ قالیباف کی گفتگو روکنے کے پیچھے ایک ’خودسر اور تخریب کار گروہ‘ کا ہاتھ تھا۔
پارلیمانی سپیکر کے سیاسی مشیر امیر ابراہیم رسولی نے پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو کے نشر نہ کیے جانے پر سرکاری نشریاتی ادارے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس واقعے کو ’انتظامی تباہی‘ اور ’نااہلی و ناتجربہ کاری‘ کی علامت قرار دیا۔
سرکاری ٹیلی وژن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس ادارے کی انتظامیہ سخت گیر گروہوں کے قریب ہے اور زیادہ تر انھی کی آواز کو نمایاں کرتی ہے۔
اس واقعے کے ایک دن بعد ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے کہا کہ انٹرویو کی فائل میں ’مسئلہ‘ تھا اور نشریات رکنے کی وجہ فنی خرابی تھی۔ بعد میں انٹرویو مکمل طور پر دوبارہ نشر کیا گیا۔
پارلیمان کے میڈیا مرکز نے ایک بیان میں کہا کہ انٹرویو نشر ہونے سے دو گھنٹے قبل ادارے کے حوالے کیا گیا تھا اور جو حصے حذف ہوئے تھے ان میں ’ایران کے جوہری مراکز کے معائنے سے متعلق بین الاقوامی ایجنسی کے مبینہ جھوٹے دعوے، منجمد اثاثوں کی رہائی کی پیروی کی تفصیلات، اور تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر کی رقوم جیسے موضوعات شامل تھے۔
حالیہ ہفتوں میں مختلف پلیٹ فارمز، بشمول ایرانی ٹیلی وژن، پر بہت سے افراد نے مذاکرات اور طے پانے والی مفاہمت کی سخت مخالفت کی ہے۔
محمدباقر قالیباف نے ان ناقدین اور امریکہ سے مذاکرات کے مخالفین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہ سفارت کاری میں ملک کی مدد کرتے ہیں اور نہ جنگ میں؛ لیکن میں اس لیے کھڑا ہوں کہ جنگ بھی کروں اور سفارت کاری بھی۔ مزید اذیت نہ دیں، اور ٹرمپ کی باتوں کو بھی نہ دہرائیں، عوام کو سکون سے رہنے دیں۔‘
انھوں نے اسلام آباد مفاہمتی معاہدے کو ’امریکہ کی شکست کی دستاویز‘ بھی قرار دیا اور اس کا دفاع کیا۔
گذشتہ دنوں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران نے اپنی جوہری تنصیبات کے وسیع معائنے کی اجازت دے دی ہے اور ایرانی رقم امریکی کسانوں سے مکئی، سویا بین اور گندم خریدنے پر خرچ کی جائے گی۔
ان بیانات نے قدامت پسند حلقوں میں غصہ پیدا کیا اور مذاکرات کاروں پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
محمدباقر قالیباف نے امریکی صدر کی باتوں کو ’جھوٹ پر مبنی بیانیہ‘ قرار دیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایک خط شائع کیا جسے ایران کے نئے رہنما مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب کیا گیا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے بارے میں ان کی ’اصولی طور پر مختلف رائے‘ تھی، لیکن چونکہ فیصلہ اور معاہدہ ہو چکا ہے، اس لیے ’ہم شرائط کے پورا ہونے کے منتظر رہیں گے‘اسلام آباد مفاہمت سے اختلافات میں شدت تک
امریکہ سے مذاکرات کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ علی خامنہ ای کی زندگی کے دوران بھی، 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کے وقت، بعض ایرانی اراکینِ پارلیمان نے اس معاہدے کا متن پارلیمان میں نذرِ آتش کر دیا تھا۔
علی خامنہ ای کی ہلاکت، 40 روزہ جنگ کے خاتمے، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور اسلام آباد میں مذاکرات کے آغاز کے بعد امریکہ سے مذاکرات کے معاملے پر اختلافات کا ایک نیا دور شروع ہوا۔
مفاہمتی معاہدے کی شقیں باضابطہ طور پر منظرِ عام پر آنے سے پہلے تنقید زیادہ تر سیاسی اور میڈیا حلقوں تک محدود تھی۔ لیکن معاہدے کی بعض تفصیلات سامنے آنے کے بعد مخالفت علانیہ ہو گئی اور یہ ایران کی داخلی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہو گئی۔
مخالفین کی صف میں قدامت پسند دھڑوں سے قریبی تعلق رکھنے والی شخصیات، بالخصوص پارلیمان کے پائیداری محاذ کے ارکان، نمایاں تھے۔
سخت گیر اراکین کا مؤقف ہے کہ مذاکراتی ٹیم نے امریکہ کے سامنے بہت زیادہ رعایتیں دی ہیں اور معاہدے کے فوائد اس کی قیمت، خصوصاً علی خامنہ ای کی ہلاکت، سے متناسب نہیں ہیں۔
اسی دوران مجتبیٰ خامنہ ای کے ایک خط کی اشاعت نے تنازع کو مزید بڑھا دیا۔ مخالفین نے ان کے فقرے ’میری اصولی طور پر دوسری رائے تھی‘ پر زور دیا اور اسے مذاکراتی عمل پر عدم اطمینان کی علامت قرار دیا۔
ایران کی خارجہ پالیسی براہِ راست رہبر کی نگرانی میں طے کی جاتی ہے اور وزارتِ خارجہ انھی پالیسیوں پر عمل کرتی ہے۔
تاہم، نئے رہنما کی صورتحال کے بارے میں محدود معلومات کے باعث یہ واضح نہیں کہ موجودہ پالیسیاں ان کی جانب سے طے کی جا رہی ہیں یا اقتدار کے دیگر مراکز کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
مذاکرات کے مخالفین اور اس عمل میں شامل اداروں کے درمیان کشیدگی اُس وقت عروج پر پہنچی جب قومی سلامتی کمیٹی کے رکن محمود نبویان نے ایک ٹی وی پروگرام میں فیصلہ ساز اداروں کے درمیان ہونے والی خط و کتابت اور بحت کا ذکر کیا۔
بعد ازاں ان بیانات نے سیاسی اور میڈیا تنازع کی شکل اختیار کر لی، اور ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ان اظہارات کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا۔
یہ ردِعمل اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ مذاکرات پر اختلاف محض سیاسی تنازع نہیں رہا بلکہ حکومتی اداروں کے اندر بھی سرایت کر چکا ہے۔
مسعود پزشکیان نے کہا ہے ’اگر رہبر حکم دیتے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہ کیے جائیں تو ہم یقیناً اطاعت کرتے۔‘
مسعود پزشکیان نے کہا ہے ’اگر رہبر حکم دیتے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہ کیے جائیں تو ہم یقیناً اطاعت کرتے۔‘امریکہ سے مذاکرات کے حامی کیا کہتے ہیں؟
تنقید کے جواب میں حکومتی عہدیداروں اور مذاکرات کے حامیوں نے مختلف مؤقف اختیار کیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ اگر ایران کے رہبر مذاکرات کے مخالف ہوتے تو یہ مذاکرات سرے سے ہوتے ہی نہیں اور حکومت کو انھیں جاری رکھنے کی اجازت نہ ملتی۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے مذاکرات جیسا اہم معاملہ پورے نظامِ حکومت کے فیصلے کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
صدر کے ایگزیکٹو نائب محمد جعفر قائم پناہ نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کا معاملہ قومی سلامتی کونسل میں زیرِ غور آیا تھا اور حاضر 13 اراکین میں سے 12 نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔
ان کے مطابق بعد ازاں رہبر اعلیٰ نے بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی اجازت دے دی تھی۔
محمد جعفر کا کہنا تھا کہ مخالفین نے صرف ’میری اصولی طور پر دوسری رائے تھی‘ والے جملے کو نمایاں کیا اور پیغام کے دیگر حصوں کو نظر انداز کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ فیصلہ سازی کے عمل میں مختلف آرا کا موجود ہونا ایک فطری امر ہے اور اس جملے کو حتمی فیصلے کی مخالفت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
اس مؤقف پر قدامت پسند حلقوں نے سخت تنقید کی۔
امریکہ سے مذاکرات کے حامی بعض سیاسی رہنماؤں نے بھی سخت گیروں کے بیانات پر ردِعمل دیا ہے۔
اصلاح پسند سیاسی رہنما مصطفیٰ ہاشمی طبا نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’سخت گیر صرف ویڈیو گیم (پلے سٹیشن) والی جنگ جانتے ہیں، حقیقی جنگ نہیں۔ اگر وہ حقیقی جنگ کو سمجھتے ہوتے تو اس طرح کا رویہ اختیار نہ کرتے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ جنگ پر سخت گیروں کا اصرار جنگ کے تباہ کن اثرات اور نتائج سے ناواقفیت اور لاعلمی کی وجہ سے ہے۔

داخلی اختلافات پر علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریبات کا سایہ
ایران میں امریکہ سے مذاکرات کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اختلاف ایک اہم سیاسی موضوع بن چکا ہے، لیکن بظاہر ایک اور واقعے نے کم از کم عارضی طور پر اس بحث کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔
اعلان کردہ پروگرام کے مطابق علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلقسات روزہ تقریبات تین جولائی سے نو جولائی تک تہران، قم، نجف اور کربلا میں منعقد ہوں گی، جبکہ آخر میں انھیں مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ملکی میڈیا، اخبارات، سوشل میڈیا اور سیاسی رہنماؤں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی توجہ اس وقت ان تقریبات اور ان کے ممکنہ اثرات پر مرکوز ہے۔
حالیہ دنوں میں تدفین اور اس کے بعد ایران کے سیاسی مستقبل سے متعلق خبروں اور تجزیوں کی کثرت کے باعث امریکہ کے ساتھ مفاہمت اور اس پر جاری اختلافات کی بحث کسی حد تک پس منظر میں چلی گئی ہے۔
بہت سے سیاسی رہنماؤں نے بھی داخلی تناؤ میں مزید اضافہ کرنے سے گریز کیا ہے اور محتاط بیانات کو ترجیح دی ہے۔
تاہم، کشیدگی میں یہ عارضی کمی اس اختلاف کے خاتمے کی علامت نہیں۔
امریکہ سے مذاکرات کے بارے میں دو مختلف نقطہ ہائے نظر کے درمیان خلیج اب بھی برقرار ہے اور امکان ہے کہ تدفینی تقریبات کے اختتام اور جذباتی فضا کے کم ہونے کے بعد یہ موضوع دوبارہ ایران کی داخلی سیاست کے اہم معاملات میں شامل ہو جائے گا۔
قدامت پسند روزنامہ کیہان نے ’ایران طاقت کی پوزیشن میں، دشمن کو کمزوری کا پیغام نہ دیں‘ کے عنوان سے لکھے جانے والے مضمون میں صدر اور پارلیمان کے سپیکر کے حالیہ بیانات پر بالواسطہ تنقید کی۔
اخبار نے لکھا کہ نقدی کی کمی، جنگی نقصانات یا بحری محاصرے کے دوران تیل فروخت نہ کر سکنے جیسے موضوعات کو اٹھانا، دشمن کو کمزوری کا پیغام دیتا ہے اور ایرانی مذاکرات کاروں کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔
کیہان نے یہ بھی خبردار کیا کہ داخلی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور سیاسی تقسیم کو گہرا کرنا امریکہ اور اسرائیل کے حق میں جا سکتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ بحری محاصرے کے 50 دنوں کے دوران ایران ایک بیرل تیل بھی فروخت نہیں کر سکا۔
دوسری جانب بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حالیہ مفاہمت اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان گہرے اختلافات کا حل نہیں، لیکن کم از کم مزید کشیدگی اور اضافی نقصانات سے بچنے کا ذریعہ بنی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر محسن جلیلوند نے 60 روزہ جنگ بندی والی مفاہمتی یادداشت کو پائیدار امن کے آغاز کے بجائے دونوں فریقوں کے درمیان ایک ’وقفہ‘ قرار دیا۔
ان کے مطابق ایران اور امریکہ کے اختلافات اتنے وسیع ہیں کہ ایک مختصر المدتی مفاہمتی معاہدے سے ان کا خاتمہ بعید از قیاس ہے۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ حالیہ مذاکرات کی سب سے اہم کامیابی مزید نقصانات کو روکنا اور کشیدگی کم کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
مجموعی طور پر، آج ایران میں نہ تو امریکہ سے مذاکرات پر مکمل اتفاقِ رائے موجود ہے اور نہ ہی مکمل مخالفت۔
ایرانی نظامِ حکومت اب بھی دو مختلف نقطہ ہائے نظر کے درمیان کھڑا ہے: ایک گروہ سفارت کاری کو معاشی اور سکیورٹی دباؤ کم کرنے کا بہترین راستہ سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو بدگمانی کی نظر سے دیکھتا ہے۔