ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ مفاہمتی یادداشت پر کیے گئے اپنے دستخطوں کا احترام کرے۔
ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت سے متعلق اپنے بیان میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم اور ملک کی مسلح افواج کسی بھی قسم کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 13 میں واضح طور پر درج ہے کہ دھمکیوں کے ماحول میں حتمی معاہدے پر مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔
یہ بیان اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے ایرانی قیادت کو دی جانے والی دھمکیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ لاکھوں ایرانیوں نے آیت اللّٰہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کرکے اتحاد اور یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو مشکل ضرور قرار دیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ناممکن نہیں ہے۔
تہران میں حماس کی لیڈر شپ کونسل کے سربراہ محمد درویش سے ملاقات کے دوران باقر قالیباف نے کہا کہ معاہدے کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات اب بھی شدید نوعیت کے ہیں۔