امریکی دارالحکومت میں یومِ آزادی کے جشن پر کی جانے والی ریکارڈ توڑ آتش بازی شہریوں کے لیے بھاری پڑ گئی، جس کے نتیجے میں واشنگٹن ڈی سی چند گھنٹوں کے لیے فضائی آلودگی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے آلودہ ترین شہر بن گیا۔
سوئس ادارے 'آئی کیو ایئر' نے انکشاف کیا ہے کہ اتوار کی علی الصبح وائٹ ہاؤس کے زیرِ اہتمام ہونے والے اس مظاہرے کے دھوئیں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس تقریب کا مقصد 40 منٹ میں ساڑھے 8 لاکھ گولے داغ کر ورلڈ ریکارڈ بنانا تھا، لیکن اس نے فضا کو اس قدر زہریلا کردیا کہ آلودہ ذرات کی مقدار مقررہ محفوظ حد (35 مائیکرو گرام) کے مقابلے میں بڑھ کر 200 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر سے بھی اوپر چلی گئی۔
حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو واشنگٹن سمیت میری لینڈ اور ورجینیا کے مضافاتی علاقوں میں 'کوڈ پرپل' نافذ کرنا پڑا، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ترین فضائی معیار کی علامت ہے۔
ماہرینِ موسم کا ماننا ہے کہ اگر اتوار کی دوپہر قدرت مہربان نہ ہوتی اور بارش نہ برستی، تو آلودگی کی یہ لہر انسانی صحت کے لیے مزید تباہ کن ہوسکتی تھی۔
دوسری طرف، امریکی ماحولیاتی تحفظ کے محکمے کی ترجمان بریجٹ ہرش نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آتش بازی ملک کی تاریخ کا ایک خوبصورت حصہ ہے اور امریکا کے 250 سال مکمل ہونے پر عوام نے اس یادگار شو کو بہت پسند کیا ہے۔