شارجہ سے کراچی آنے والا نجی ایئرلائن کا بوئنگ 737 کارگو طیارہ کراچی کے قریب سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا، جبکہ طیارے میں سوار عملے کے پانچوں ارکان لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق طیارے کی تلاش کے لیے بحری اور فضائی سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔
نجی ایئرلائن کے اعلامیے کے مطابق کارگو طیارہ گزشتہ رات شارجہ سے کراچی کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم رات 9 بج کر 21 منٹ پر اس کا ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ طیارے میں پائلٹ رضوان ادریس، فرسٹ آفیسر فیصل محمود، لوڈ ماسٹر توفیق خان، جبکہ انجینئرز عارف صدیقی اور محمد حامد سوار تھے۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی نے بھی پرواز سے رابطہ منقطع ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طیارے نے رات 9 بج کر 18 منٹ پر نیویگیشنل سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی، جس پر کراچی ایریا کنٹرول سینٹر نے فوری رہنمائی فراہم کی۔
حکام کے مطابق چند ہی منٹ بعد طیارہ ریڈار پر تیزی سے نیچے آتا دکھائی دیا، اس نے اچانک اپنی سمت تبدیل کی اور کراچی سے تقریباً 155 ناٹیکل میل مغرب میں ریڈار اور مواصلاتی رابطے سے باہر ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود طیارے یا اس کے ملبے کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ سرچ آپریشن کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے اور متعلقہ ادارے سمندر میں مختلف مقامات پر تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ طیارے یا اس کے ملبے کی برآمدگی سے قبل حادثے کی وجوہات کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق فلائٹ ریکارڈر اور ملبہ ہی حادثے کی اصل وجہ سامنے لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق سمندر میں پیش آنے والے فضائی حادثات کی تحقیقات موسم، سمندری لہروں اور پانی کی گہرائی جیسے عوامل سے متاثر ہوتی ہیں، جبکہ ماضی میں بعض لاپتا طیاروں کی تلاش میں کئی سال بھی لگ چکے ہیں۔