ای چالان سے شہریوں کے مسائل کا اندازہ ہے، ریلیف کے لیے پالیسی بنا رہے ہیں، ڈی آئی جی ٹریفک

image

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں ٹریفک کے معاملات کو بہتر بنانے اور کھیلوں کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں 45 ہزار ایسی گاڑیاں موجود ہیں جو خریداروں نے ابھی تک اپنے نام منتقل نہیں کروائیں، جس کے خلاف مہم شروع کردی گئی ہے اور یہ مسلسل جاری رہے گی۔

ای چالان کے نظام کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل میں کمی آئی ہے، تاہم ای چالان اور ای ٹکٹ سے متعلق شہریوں کو درپیش سنجیدہ مسائل اور شکایات کو دور کرنے کے لیے ریلیف پالیسی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ای چالان خودکار نظام کے تحت ہوتے ہیں جس میں غلطی کا امکان رہتا ہے، اس لیے شہری خود جا کر بھی اس حوالے سے شکایت درج کروا سکتے ہیں۔ مہم کے دوران قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے سرکاری اور پولیس کی گاڑیوں اور اہلکاروں کے بھی چالان کیے گئے ہیں۔

ڈی آئی جی ٹریفک نے رکشوں کے حوالے سے اہم فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں چنگچی رکشوں کو مین روڈز سے ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں اور کراچی میں ہر طرح کے (بغیر میٹر) رکشوں پر پابندی عائد کرنے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر صرف وہی رکشہ چلے گا جس میں میٹر لگا ہوا ہوگا، اور اس مقصد کے لیے رکشہ مالکان کو میٹر نصب کرنے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا جا رہا ہے تاکہ شہری میٹر کے حساب سے کرایہ ادا کر سکیں۔

انفراسٹرکچر میں بہتری کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سہولت کے لیے سعید آباد کے بعد کورنگی میں بھی نیا سینٹر قائم کیا جائے گا، جبکہ بلدیہ میں اسکوٹی چلانے والی لڑکیوں کو ٹریفک پولیس کی جانب سے مفت ٹریننگ فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر کی طرح یہاں بھی حادثات ہوتے ہیں لیکن اس سال کراچی میں ٹریفک حادثات میں کمی آئی ہے اور رواں سال 145 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

کھیلوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پیر محمد شاہ نے بتایا کہ سندھ پولیس تمام صوبوں کے ساتھ مل کر اسپورٹس سرگرمیاں منعقد کرے گی، جس کے تحت سندھ پولیس اسپورٹس میں کرکٹ کا ایک بڑا ایونٹ کروایا جا رہا ہے جس میں چاروں صوبوں کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔ اس کے علاوہ کراچی میں باکسنگ، کرکٹ، ہاکی اور دیگر کھیلوں کے تربیتی کیمپ بھی لگائے گئے ہیں۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے عوامی آگاہی کے لیے موبائل ایپ اور شہر کے مختلف مقامات پر نصب ایل ای ڈی بل بورڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے، اور جلد ہی شہر میں ٹریفک کے معاملات پر شہریوں کو مزید خوشخبری دی جائے گی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US