لاہور کے علاقے اچھرہ میں نجی ٹیوشن سینٹر میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں 10 سالہ بچی مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کردی گئی۔ بچی کی لاش ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے ملی ہے، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے مکان مالک سمیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق 10 سالہ بچی (نعیمہ بی بی) حسبِ معمول گھر سے ٹیوشن پڑھنے گئی تھی۔ یہ ٹیوشن سینٹر تین منزلہ گھر کی دوسری منزل پر قائم ہے، جہاں گھر کی خواتین بچوں کو پڑھاتی ہیں۔ دورانِ تعلیم بچی واش روم استعمال کرنے کے لیے گراؤنڈ فلور پر آئی۔
جب بچی تقریباً 10 منٹ تک واپس نہ لوٹی، تو استانی نیچے دیکھنے آئیں جہاں بچی واش روم میں بے ہوش پائی گئی۔ ٹیچر کے شور مچانے پر محلے دار جمع ہو گئے اور بچی کو فوری طور پر پانی کے چھینٹے مارے گئے، تاہم ہوش نہ آنے پر اسے فوری اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ایس پی ماڈل ٹاؤن اسد علی بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ پولیس کے مطابق بچی کی گردن پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، جس سے مبینہ زیادتی اور قتل کا شبہ گہرا ہوگیا ہے۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کردیا گیا ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات اور مبینہ زیادتی کا تعین ہوسکے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھر کے مالک عبدالرؤف سمیت دیگر مشکوک افراد کو حراست میں لے کر ان کے بیانات قلمبند کرنا شروع کردیے ہیں۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن کا کہنا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد مزید حقائق واضح ہوں گے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
واضح رہے کہ مذکورہ ٹیوشن سینٹر میں عبدالرؤف کی دو بیٹیاں پڑھاتی ہیں اور وہاں تقریباً 20 کے قریب بچے اور بچیاں زیرِ تعلیم ہیں۔