بھارت کی ریاست کیرالا میں 18 ماہ کے بچے کی طبی علاج کے دوران موت کے بعد معاملہ تحقیقات تک پہنچ گیا ہے۔ اہلخانہ نے اسپتال اور معالجہ کرنے والی ڈاکٹر پر لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے واقعے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دیوانش نامی بچہ 5 جولائی کو گھر کے صحن میں کھیلتے ہوئے گر گیا تھا، جس سے اس کے ہونٹ پر زخم آیا۔ اسے علاج کے لیے بیبی میموریل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخم پر ٹانکے لگانے سے قبل اسے بے ہوشی کی دوا دی گئی۔ اسپتال کے مطابق دوا دینے کے کچھ ہی دیر بعد بچے کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ دوبارہ ہوش میں نہ آسکا۔
بچہ کئی روز تک انتہائی نگہداشت میں زیر علاج رہا، تاہم پانچ دن بعد اس کا انتقال ہوگیا۔ بعد ازاں پوسٹ مارٹم بھی مکمل کر لیا گیا تاکہ موت کی وجوہات کا مزید جائزہ لیا جاسکے۔
دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے طبی غفلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بے ہوشی کی دوا مقررہ مقدار میں دی گئی تھی اور علاج کے دوران تمام طبی اصولوں پر عمل کیا گیا۔ اسپتال کے مطابق دوا کے بعد بعض اوقات غیر متوقع طبی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جبکہ طبی ٹیم نے بچے کی حالت سنبھالنے کے لیے فوری اقدامات کیے اور ہر ممکن کوشش کی۔