امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 2.67 ڈالر یا 3.51 فیصد اضافے کے بعد 78.68 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ یہ خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق جنگ سے قبل دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے خام تیل کا تقریباً 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے راستے منتقل کیا جاتا تھا جس کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ کی صورتحال عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف مزید حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ سینٹکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری اور تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔