وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خواتین کی ترقی ہی مسلم دنیا کی پائیدار خوشحالی اور استحکام کی ضمانت ہے، جبکہ خواتین کو تعلیم، معاشی خودمختاری اور قیادت کے مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی 9ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان او آئی سی کی چیئرمین شپ ذمہ داری، اتفاقِ رائے اور باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ نبھائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین نے تاریخ کے ہر دور میں علم، قیادت، تجارت اور عوامی خدمت کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، تاہم آج بھی لاکھوں خواتین اور بچیاں ترقی کی راہ میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہیں۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ خواتین کا معاشی اور سیاسی طور پر بااختیار ہونا پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے چودہ سو سال قبل خواتین کو عزت، حقوق اور قانونی شناخت عطا کی، اس لیے ہر خاتون اور بچی کو تعلیم، ترقی اور قیادت کے یکساں مواقع میسر ہونے چاہئیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ او آئی سی ایکشن پلان اور ویمن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے اہم پلیٹ فارمز ہیں، جبکہ اس کانفرنس کی حقیقی کامیابی کا معیار خواتین کے لیے عملی مواقع اور مؤثر اقدامات کا فروغ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان خواتین کی مالی شمولیت، کاروباری مواقع اور قیادت کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جبکہ قومی صنفی پالیسی 2025 اور وزیراعظم ویمن ایمپاورمنٹ پیکیج پر بھی عملدرآمد جاری ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت خواتین کو محفوظ، مساوی اور بااختیار ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صنفی مساوات کے فروغ میں مردوں اور نوجوانوں کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔