بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مبینہ ہراسانی کے واقعات پر تشویش ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ریاست بہار سے سامنے آنے والے ایک واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جہاں ایک مسلم خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر ہجوم نے بدسلوکی کی، اس کا نقاب ہٹایا اور زبردستی اس کی مانگ میں سندور بھر دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون کو راستے میں روک کر متعدد افراد نے اسے گھیر لیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں خاتون کو مسلسل خود کو بچانے اور ہجوم سے رحم کی اپیل کرتے دیکھا جا سکتا ہے، لیکن وہاں موجود افراد اس کی فریاد کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔
ویڈیو میں ایک شخص یہ کہتے ہوئے بھی سنا جا سکتا ہے کہ "ویڈیو تو بنے گی، ثبوت بھی رہے گا۔" اسی دوران چند افراد خاتون کا نقاب ہٹا کر اس کا ماتھا ظاہر کرتے ہیں جبکہ پس منظر میں "جے بجرنگ بلی" کے نعرے بھی سنائی دیتے ہیں۔ ویڈیو کے مطابق ہجوم اس دوران مسلسل ریکارڈنگ کرتا رہا۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متاثرہ خاتون اور اس کے ساتھ موجود شخص کا کچھ فاصلے تک تعاقب بھی کیا گیا اور ان کی ویڈیوز بنائی جاتی رہیں۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے، تاہم تاحال پولیس کی جانب سے کسی گرفتاری یا باضابطہ کارروائی کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اس واقعے نے بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ، مذہبی آزادی اور قانون کی عملداری سے متعلق ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ حکومتی پالیسیوں اور انتہا پسند عناصر کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔