میری بیٹی کی شادی کے معاملے میں مجھے بہت تلخ تجربہ ہوا اور آج بھی اس کا دکھ میرے دل میں موجود ہے۔ ہمارے زمانے میں لڑکیوں پر بہت پابندیاں ہوتی تھیں، نہ لڑکوں سے دوستی کی اجازت تھی اور نہ ہی ہم نے شریکِ تعلیم ماحول میں پڑھا۔ شاید اسی وجہ سے ہم نے اپنی بیٹیوں کو یہ آزادی دی کہ اگر انہیں کوئی پسند ہو تو ہم سے چھپانے کے بجائے صاف بتا دیں۔ ایک بار میری بیٹی کے لیے گھر پر ایک لڑکے کی کال آئی تو انصاری صاحب نے کہا کہ میں نہیں چاہتا لڑکے میری بیٹیوں کو فون کریں۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ اگر ہم ضرورت سے زیادہ سختی کریں گے تو بچے ہم سے باتیں چھپانا شروع کر دیں گے۔ پھر ہم نے درمیانی راستہ نکالا، میں نے کہا کہ لڑکے ہمارے گھر آ سکتے ہیں لیکن بیٹیاں ان کے گھروں نہیں جائیں گی۔
ہم ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے جہاں کبھی یہ نہیں سکھایا جاتا تھا کہ امیر لڑکا تلاش کرو یا بڑی جائیداد دیکھو۔ ہمارے نزدیک انسان کی تربیت اور اخلاق زیادہ اہم تھے۔ ہم ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ میاں بیوی مل کر اپنا گھر بناتے ہیں، چاہے آمدنی کم ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن اپنی بیٹی کے لیے رشتہ چنتے وقت ہم سے بڑی غلطی ہوگئی۔
میں ایک لڑکے کی گفتگو اور اس کے خاندان کو دیکھ کر مطمئن ہوگئی اور اس کی مالی صورتحال کو سنجیدگی سے جانچنے کی کوشش نہیں کی۔ میری بیٹی نریمان نے بھی بتایا تھا کہ جب بھی میں اس سے مالی معاملات کے بارے میں پوچھتی تھی تو وہ ناراض ہو جاتا تھا۔ آج احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک واضح خطرے کی علامت تھی مگر ہم نے رشتہ ٹوٹ جانے کے ڈر سے اسے نظر انداز کر دیا۔
پاکستان کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنی بیٹی کی شادی سے متعلق پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ رشتہ طے کرتے وقت ان سے ایک اہم غلطی ہوئی جس کا احساس بعد میں ہوا۔
بشریٰ انصاری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کی پرورش اپنے والدین کے انداز سے مختلف طریقے سے کی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر بچوں پر غیر ضروری پابندیاں لگائی جائیں تو وہ والدین سے سچ چھپانا شروع کر دیتے ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنی بیٹیوں کو اعتماد دیا کہ وہ اپنی پسند اور دوستوں کے بارے میں کھل کر بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ شادی کے معاملے میں ان کے خاندان نے ہمیشہ دولت کے بجائے کردار، تربیت اور خاندانی اقدار کو ترجیح دی۔ تاہم بعد میں انہیں احساس ہوا کہ صرف اچھی گفتگو یا ظاہری تاثر پر اعتماد کرنا کافی نہیں ہوتا بلکہ مالی ذمہ داری، عملی رویہ اور دیگر اہم پہلوؤں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔
بشریٰ انصاری کے مطابق بعض اوقات رشتہ برقرار رکھنے کی خواہش میں ایسے اشاروں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے جو بعد میں بڑے مسائل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور یہی ان کے نزدیک ان کی سب سے بڑی غلطی تھی۔