پاکستانی اداکارہ اور ٹی وی میزبان جویریہ سعود نے لڑکیوں میں خوبصورتی کے لیے سرجری، فلٹرز اور بالی ووڈ اداکاراؤں جیسا دکھنے کی بڑھتی ہوئی خواہش پر کھل کر بات کی ہے۔
اپنے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جویریہ سعود نے کہا جب میں اپنی تصاویر پر فلٹر لگاتی ہوں تو میرے بچے مجھ سے لڑتے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ ایسا کیوں کرتی ہیں؟ کیا آپ اللہ کی بنائی ہوئی اپنی شکل سے مطمئن نہیں ہیں؟ ہمارے ملک میں لڑکیوں میں کاجول، کرینہ اور کترینہ جیسی بالی ووڈ ہیروئنز بننے کا جنون پایا جاتا ہے۔ وہ اپنی شکلیں بھی اسی حساب سے تبدیل کروانے لگتی ہیں۔ میرے بچے تو میرے فلٹرز کے اتنے خلاف ہیں کہ وہ میرے فون سے وہ ایپ ہی ڈیلیٹ کردیتے ہیں، لیکن میں دوبارہ ڈاؤن لوڈ کرلیتی ہوں۔
جویریہ سعود نے کہا کہ موجودہ دور میں لڑکیوں کے درمیان ایک اور رجحان بھی بڑھ رہا ہے، جس میں وہ ’سائز زیرو‘ کو خوبصورتی کی علامت سمجھنے لگتی ہیں۔ ان کے مطابق خاص طور پر 30 سال سے زائد عمر کی خواتین جب حد سے زیادہ وزن کم کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو اس کے اثرات جلد جسم اور چہرے پر نمایاں ہونے لگتے ہیں۔
اداکارہ نے کہا کہ ضرورت سے زیادہ ڈائٹنگ کے نتیجے میں جسم سے کولیجن اور مسلز کم ہوسکتے ہیں جس کے باعث چہرہ اور مجموعی شخصیت صحت مند نظر آنے کے بجائے کمزور اور بے رونق دکھائی دینے لگتی ہے۔
جویریہ سعود کی گفتگو میں سوشل میڈیا کے فلٹرز، جسمانی ساخت اور خوبصورتی کے موجودہ معیار پر خاص توجہ نظر آئی۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچے بھی انہیں قدرتی شکل میں خود کو قبول کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔