محمد احمد کے فیس لفٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردِعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض افراد نے اداکار کے اپنے خیال رکھنے اور کاسمیٹک ٹریٹمنٹ کروانے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا اپنا خیال رکھنا ہر عمر میں ضروری ہے اگر کوئی شخص خود کو بہتر محسوس کرتا ہے تو اس میں کوئی برائی نہیں جبکہ کچھ صارفین کا کہنا تھا قدرتی عمر رسیدگی بھی اپنی ایک خوبصورتی رکھتی ہے اس لیے عمر کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کو بھی قبول کرنا چاہیے۔
پاکستانی اداکار اور ڈرامہ نویس محمد احمد نے فیس لفٹ ٹریٹمنٹ کروا کر مداحوں کو حیران کردیا۔ اداکار حال ہی میں ایک ایستھیٹکس کلینک پہنچے جہاں انہوں نے تھریڈ لفٹ کا طریقہ کار اختیار کیا جو چہرے کو اٹھانے کے لیے نسبتاً کم مداخلت والا غیر جراحی علاج سمجھا جاتا ہے۔
علاج سے قبل ڈاکٹر نے محمد احمد کے چہرے پر ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں لفٹنگ کی ضرورت تھی اور یہ بھی جائزہ لیا کہ ٹریٹمنٹ سے ان کے چہرے کے تاثرات متاثر نہ ہوں۔ اس کے بعد چہرے کو سن کیا گیا اور مخصوص حصوں میں تھریڈز لگائے گئے۔
محمد احمد نے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا کہ ڈاکٹر کی جانب سے تجویز کردہ مختلف آپشنز میں سے انہوں نے کم مداخلت والا غیر جراحی طریقہ منتخب کیا۔ ان کے مطابق پورا عمل بغیر درد کے مکمل ہوا اور طبی ٹیم نے انہیں دورانِ علاج مکمل طور پر پرسکون رکھا۔
اداکار نے کہا کہ ٹریٹمنٹ کے بعد انہیں خود کو پہلے سے زیادہ جوان محسوس ہوا۔ انہوں نے مستقبل میں کسی مزید ٹریٹمنٹ یا اگلے مرحلے کے بارے میں بھی معلومات شیئر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
محمد احمد کی جانب سے کاسمیٹک ٹریٹمنٹ کروانے پر جہاں کئی مداح ان کے اعتماد اور اپنے آپ کا خیال رکھنے کے فیصلے کو سراہ رہے ہیں، وہیں کچھ افراد کا کہنا ہے کہ قدرتی عمر رسیدگی بھی شخصیت کا ایک خوبصورت حصہ ہے۔