’’زیادہ تر وقت بیوی سے ادرک اور لہسن کی بو آ رہی ہوتی ہے، جبکہ شوہر دفتر میں ایسی لڑکیوں کے درمیان ہوتا ہے جنہوں نے پرفیوم لگایا ہوتا ہے۔ بیوی سے ادرک اور لہسن کی خوشبو آئے گی تو اسے کون دیکھے گا؟‘‘
پاکستانی اداکار شہود علوی کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اداکار نے مارننگ شو میں شوہروں کی جانب سے بیویوں میں دلچسپی کم ہونے کی وجوہات پر گفتگو کرتے ہوئے گھریلو خواتین کے حوالے سے یہ تبصرہ کیا۔
شہود علوی کا کہنا تھا کہ خواتین کو شوہروں کی توجہ برقرار رکھنے کے لیے اپنی ظاہری شخصیت اور انداز پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ شوہر کے گھر واپس آنے سے پہلے خواتین ان کی پسند کا کھانا تیار کریں اور خود بھی تیار ہوں۔
گفتگو کے دوران اداکار نے خواتین کو رشتوں کے مسائل کے لیے ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنے کے مشورے پر بھی ایک جملہ کہہ دیا جس پر شرکا سمیت ناظرین بھی متوجہ ہوگئے۔ انہوں نے مذاقاً کہا، ’’ماہرِ نفسیات کے پاس بیوی کو مت بھیجنا، اگر وہ اسے لے کر بھاگ گیا تو؟‘‘
شہود علوی نے یہ بھی کہا کہ اگر شوہر ضرورت سے زیادہ وقت موبائل فون پر گزار رہا ہو تو یہ مثبت علامت نہیں۔ پروگرام میں اداکارہ لیلیٰ زبیری نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچپن میں ان کی والدہ والد کے گھر آنے سے پہلے لپ اسٹک لگایا کرتی تھیں، جسے وہ شوہر کے لیے اہتمام سمجھتی تھیں۔
اداکارہ فہمیدہ اعوان نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ خواتین اپنے شوہروں کے گھر آنے سے پہلے خود کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے کچھ اضافی کوشش کرسکتی ہیں۔
شہود علوی نے اپنی ازدواجی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کو بلوں کی ادائیگی، سودا سلف لانے اور گاڑی چلانے جیسے کام سکھانے کی کوشش کی، تاہم ان کے بقول وہ یہ کام نہیں سیکھ سکیں۔ اداکار نے مزاحیہ انداز میں اہلیہ کو ’’ڈھیٹ ہڈی‘‘ بھی قرار دیا اور بتایا کہ بشریٰ انصاری نے ان کی اہلیہ کو گاڑی چلانا سیکھنے سے منع کیا تھا کیونکہ اس کے بعد بچوں کو اسکول چھوڑنے اور واپس لانے سمیت مزید ذمہ داریاں بڑھ سکتی تھیں۔