پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی فائرنگ کے دو الگ واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان کا کہنا ہے کہ منگل کے روز راولاکوٹ اور سدنوتی کے مقام پر دو مختلف واقعات میں کالعدم قرار دی گئی تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں دس افراد ہلاک ہوئے ہیں،
سردار وحید خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ شہریوں کے علاوہ ایک رینجرز کا اہلکار اور ایک پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا اہلکار شامل ہے.
سدنوتی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ساڑھے چار سو کے قریب رینجرز کے اہلکار ایک قافلے کی صورت میں راولاکوٹ آ رہے تھے کہ بلوچ بیٹھک کے قریب کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے قافلے کا راستہ روک کر ان پر پتھراؤ شروع کر دیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کی جانب سے قافلے پر فائرنگ بھی کی گئی اور جوابی فائرنگ کے نتیجے میں سات مظاہرین ہلاک ہو گئے جبکہ ایک پولیس اہلکار بھی مارا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق مظاہرین اس واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اپنے ساتھ لے گئے جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم کا دوسرا واقعہ راولاکوٹ میں پیش آیا جہاں حکام کے مطابق راستہ کھلوانے کے لیے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے کارروائی کی تو مظاہرین کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ جوابی فائرنگ میں کالعدم تنظیم کا ایک کارکن بھی مارا گیا۔
اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے بتایا تھا کہ راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ کے دو علیحدہ علیحدہ واقعات میں رینجرز اور پولیس کے ایک، ایک اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
پولیس نے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت رینجرز کے نائک امتیاز علی اور پولیس کانسٹیبل عاقب کے ناموں سے کی تھی۔
پولیس نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ 'گذشتہ ہفتے عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد کالعدم تنظیم نے پیر کی صبح نیو بس ٹرمینل کے قریب اندھا دھند فائرنگ کی تاکہ اس کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا جا سکے۔'
جبکہ کشمیر پولیس کی ایک دوسری پریس ریلیز کے مطابق بیٹھک بلوچ کے مقام پر 'مسلح جتھوں کی بلا اشتعال فائرنگ' سے ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں۔
بی بی سی اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ اگرچہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر اس تنظیم سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے رینجرز اہلکار کی ہلاکت کے الزام کی تردید کی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود ایک پوسٹ میں کمیٹی کا کہنا تھا کہ 'ایک ویڈیو سوشل میڈیا اور پاکستانی میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد کے ہاتھوں میں گنیں ہیں۔ ہم سب اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ لوگ عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔'
'اگر ہم نے گن اٹھانی ہوتی تو آج تک اپنے نہتے بھائیوں کی اتنی لاشیں نہ اٹھانی پڑتیں۔'
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگل کے روز ہونے والی ہلاکتوں کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک پانچ پولیس اہلکاروں سمیت مجموعی طور پر 28 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا بدھ کی دوپہر سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان
راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں 15 جولائی کو راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جس پر تنظیم نے عمل درآمد کا اعادہ کیا ہے۔
تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ بدھ کی دوپہر شروع کیا جائے گا جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو مظفر آباد کی جانب لانگ مارچ نہیں کرنے دیا جائے گا۔

راولاکوٹ بس ٹرمینل اور بیٹھک بلوچ کے واقعات پر پولیس نے کیا کہا؟
بس ٹرمینل واقعے پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے۔ ویڈیو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اسے کسی ڈرون کے ذریعے بنایا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں سات افراد کو دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ اسی ویڈیو میں سڑک پر ایک بکتربند گاڑی بھی دیکھی جا سکتی ہے، جس کے پاس سے دھواں اٹھتا ہوا بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ دھواں کسی دھماکے کے نتیجے میں پھیلا یا یہ کوئی گیس کا شیل تھا۔
دوسری جانب پولیس کا اس ویڈیو کے حوالے سے کہنا ہے کہ ’اس کارروائی کی فضائی نگرانی کے دوران نشاندہی کی گئی اور اس کی ویڈیو بھی موجود ہے، جس میں فائرنگ کے بعد جب پولیس اور دیگر سکیورٹی اہلکار صورتحال پر قابو پانے کے لیے آگے بڑھے تو ان پر فائرنگ کی گئی۔‘
’کالعدم جے اے اے سی کے مسلح افراد اور مشتعل مظاہرین نے سکیورٹی فورسز کو براہِ راست نشانہ بنایا۔‘
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کالعدم جے اے اے سی کی جانب سے دھماکہ خیز مواد استعمال کیے جانے کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔‘
پولیس کے بیان کے مطابق کے ’علاقے کو فوری طور پر مسلح مظاہرین سے خالی کرانا ضروری ہے کیونکہ مقامی آبادی کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے۔‘
دوسرے واقعے، جس میں پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی، کے بارے میں جاری کردہ پریس ریلیز میں پولیس نے کہا ہے کہ ’کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے ٹولی/تتہ پانی شاہراہ کے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے آمدورفت معطل کر رکھی تھی جس کے باعث آمد و رفت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ شہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی تھی۔‘
پولیس نے مزید بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منگل کو کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا جس دوران ’بیٹھک بلوچ مقام پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر بلا اشتعال اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ اس فائرنگ کے نتیجے میں کشمیر پولیس کے کانسٹیبل عاقب ہلاک جبکہ آٹھ پولیس اہلکار، ایف سی کا ایک اہلکار اور محکمۂ پی ڈبلیو ڈی کے دو ملازمین زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس نے کہا ہے کہ ’کسی بھی اشتہاری یا مسلح گروہ کو شاہراہیں بند کر کے عوام کی زندگی مفلوج بنانے اور ریاستی رٹ کو چیلنج بنانے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
بعد ازاں آئی جی کشمیر پولیس لیاقت علی ملک نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ منگل کے روز ایک پولیس کانسٹیبل کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ ایک اہلکار کی حالت تشویش ناک ہے۔ ’ہمارے دیگر 10 اہلکار گولیاں لگنے سے معمولی زخمی ہوئے ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مختلف مقدمات میں دو اشتہاری‘ فائرنگ کے واقعے میں ملوث تھے جن کی ہلاکت ہوئی ہے۔
آئی جی کشمیر پولیس کا کہنا تھا کہ ’ابھی بھی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پُرامن ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہییں۔۔۔ یہ پُرامن نہیں ہیں، یہ جتھہ ہے۔‘