کئی برسوں سے ترک حکومت کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے، تاہم ناکام فوجی بغاوت کی کوشش اور اس کے بعد ہونے والی پکڑ دھکڑ کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

سڑکوں پر فائرنگ، متحرک ٹینک، سرکاری عمارتوں کے اوپر نچلی پرواز کرتے جنگی طیارے، پارلیمنٹ پر حملہ: یہ سب کچھ براہِ راست ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہا تھا۔
15 جولائی 2016 کی رات ایک ایسے ملک کے لیے بھی غیر معمولی تھی جو اس سے قبل تین فوجی بغاوتوں اور فوجی مداخلت کے مزید دو ادوار دیکھ چکا تھا۔
اس سے پہلے نہ کبھی ترکی کی پارلیمنٹ پر حملہ ہوا تھا اور نہ ہی استنبول کے باسفورس پل، جسے اب باضابطہ طور پر ’15 جولائی کے شہدا کا پل‘ کہا جاتا ہے، نے ایسا خونریزی کا منظر دیکھا تھا جب صدر رجب طیب اردوغان کی بغاوت کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کی اپیل پر عام شہری سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

نامعلوم مقام سے ایک موبائل فون ایپلی کیشن کے ذریعے براہِ راست ٹی وی نشریات میں شامل ہوتے ہوئے صدر اردوغان نے اپنے حامیوں سے اُس رات سڑکوں پر نکل آنے کی اپیل کی۔ ملک بھر کی مساجد سے لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے بھی ان کا پیغام نشر کیا گیا تھا۔
صبح تک بغاوت کی یہ کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔ اس واقعے میں مجموعی طور پر 253 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 184 عام شہری اور مبینہ طور پر بغاوت میں ملوث 34 افراد بھی مارے گئے تھے۔
ترکی میں فوجی مداخلتوں کی طویل تاریخ کے باوجود پارلیمان اس سے پہلے کبھی براہِ راست حملے کی زد میں نہیں آئی تھی۔15 جولائی 2016 کی بغاوت کی کوشش صرف چند گھنٹوں تک جاری رہی، لیکن اس کے نتائج نے گذشتہ ایک دہائی کے دوران ترکی کی سیاست کو گہرے طور پر تبدیل کر دیا۔ اس واقعے نے نہ صرف ملک کے اندر طاقت کے توازن کو ازسرِ نو ترتیب دیا بلکہ خارجہ محاذ پر بھی ترکی کے تعلقات کی سمت بدل دی۔
وسیع پیمانے پر تطہیر
ترکی کی حکومت نے امریکہ میں مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کو 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ گولن سنہ 2024 میں اپنی وفات سے قبل تک اس الزام کی ہمیشہ تردید کرتے رہے تھے۔
بغاوت کی سازش کے چند روز بعد ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، جو سات مرتبہ توسیع کے بعد 2018 تک برقرار رہی۔
اس عرصے کے دوران حکام نے جدید ترک تاریخ کی سب سے بڑی تطہیری مہمات میں سے ایک چلائی۔ حکومت کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ضروری تھے۔
رجب طیب اردوغان اور اسلام پسند عالمِ دین فتح اللہ گولن کئی دہائیوں تک قریبی اتحادی رہے۔ماضی میں صدر اردوغان کے قریبی اتحادی رہنے والے فتح اللہ گولن کی مذہبی تحریک کے اراکین کئی دہائیوں تک ترک ریاستی اداروں اور بیوروکریسی میں بااثر عہدوں پر موجود رہی تھی۔
بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ہزاروں فوجی اہلکاروں، جن میں اعلیٰ فوجی افسران اور جرنیل بھی شامل تھے، کے علاوہ ججوں، پراسیکیوٹرز، پولیس اہلکاروں، جامعات کے اساتذہ اور سرکاری ملازمین کو گرفتار، برطرف یا معطل کر دیا گیا۔
فتح اللہ گولن سے وابستہ قرار دیے جانے والے سینکڑوں نجی سکولوں اور تعلیمی اداروں کو بند کر دیا گیا، جبکہ کئی جامعات بھی اس کارروائی کی زد میں آئیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی کریک ڈاؤن صرف مبینہ بغاوتی عناصر اور گولن تحریک کے حامیوں تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ اس کا دائرہ اختلافی آوازوں کے ایک وسیع تر حلقے تک بھی پھیل گیا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ان تطہیری کارروائیوں کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ دیگر مذہبی گروہوں نے ریاستی اداروں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ تاہم حکومتی عہدیدار ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
اردوغان کی طاقت میں اضافہ
بغاوت کی کوشش کا ممکنہ طور پر سب سے اہم سیاسی نتیجہ صدر اردوغان کے اقتدار کا مزید مستحکم ہونا تھا۔
ناقدین کے مطابق ناکام فوجی بغاوت کے بعد آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت زیادہ اختیارات ایوانِ صدر اور بالخصوص ایک ہی فرد کے ہاتھ میں مرکوز ہو گئے ہیں۔2017 میں ووٹروں نے معمولی اکثریت سے آئینی ترامیم کی منظوری دی، جن کے تحت پارلیمانی نظام کی جگہ ایک طاقتور صدارتی نظام متعارف کرایا گیا۔ یہ تبدیلیاں اگلے سال نافذ ہوئیں، جب وزیرِ اعظم کا عہدہ ختم کر دیا گیا اور صدر کے اختیارات میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔
اس نظام کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے سیاسی استحکام، تیز تر فیصلہ سازی اور زیادہ مؤثر طرزِ حکمرانی ممکن ہوئی۔
تاہم ناقدین کے مطابق ان تبدیلیوں کے نتیجے میں بہت زیادہ اختیارات ایوانِ صدر اور بالخصوص ایک ہی فرد کے ہاتھ میں مرکوز ہو گئے ہیں۔
امریکہ میں قائم تھنک ٹینک فریڈم ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام کے تحت قانون سازوں کی پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نمایاں طور پر کمزور ہوئی ہے۔
فریڈم ہاؤس کی ترکی سے متعلق تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’رجب طیب اردوغان اکثر اپنی خواہشات کے برخلاف کام کرنے والی وزارتوں اور آزاد سرکاری اداروں کے خلاف مداخلت کرتے ہیں۔‘
استنبول یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر دوغان چیتن کایا بھی اس جائزے سے متفق ہیں۔
ان کے بقول صدارتی نظام کی خصوصیات میں ’من مانی طرزِ حکمرانی اور ایک غیر واضح ادارہ جاتی ڈھانچہ شامل ہے۔‘
آمرانہ طرزِ حکمرانی
کئی برسوں سے ترک حکومت کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے، تاہم ناکام فوجی بغاوت کی کوشش اور اس کے بعد ہونے والی پکڑ دھکڑ کے بعد ان خدشات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
فریڈم ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ’گذشتہ ایک دہائی کے دوران ترکی میں آمرانہ طرزِ حکمرانی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔‘گولن تحریک سے تعلق رکھنے کے الزام میں ہزاروں ججوں اور سرکاری وکیلوں کے ہٹائے جانے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور یورپی اداروں نے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
استنبول یونیورسٹی کے پروفیسر دوغان چیتن کایا کہتے ہیں کہ ’15 جولائی کے بعد ترکی کے سیاسی اور انتظامی نظام کے ادارے کمزور کر دیے گئے اور انھوں نے اپنی خودمختاری کھو دی۔‘
ان کے مطابق عدلیہ اور مقننہ اب عملاً اختیارات کے مؤثر مراکز نہیں رہے ہیں۔
ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے عوامی مظاہروں کا انعقاد بتدریج زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔اس کے بعد سے عوامی مظاہروں کا انعقاد بتدریج زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔ حکام اکثر سخت سکیورٹی اقدامات نافذ کرتے ہوئے اجتماعات پر پابندیاں عائد کر دیتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کی ملکیت پر حکومت کابڑھتا اثر و رسوخ اور معروف صحافیوں کے خلاف مقدمات سے صحافتی آزادی بھی متاثر ہوئی ہے۔ صحافی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے 2026 کے عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے ترکی 163ویں نمبر پر ہے۔
ترکی میں اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی مسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک مقبول سٹینڈ اَپ کامیڈین کو صدر کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اس سے قبل صحافیوں، سیاست دانوں اور عوامی شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے جنھیں تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
فریڈم ہاؤس کا مؤقف ہے کہ ’گذشتہ ایک دہائی کے دوران ترکی میں آمرانہ طرزِ حکمرانی میں اضافہ ہوا ہے۔ آئینی تبدیلیوں، سیاسی مخالفین، آزاد صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کو جیلوں میں ڈال کر اقتدار پر پکڑ کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔‘
استغاثہ نے بدعنوانی کے کیس میں اکرم امام اوغلو کے لیے 2,400 برس سے زیادہ قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔مارچ 2025 میں استنبول کے میئر اکرم امام وغلو اور درجنوں بلدیاتی عہدیداروں کو بدعنوانی سے متعلق الزامات میں گرفتار کیا گیا۔ خیال رہے کہ امام وغلو کا شمار مستقبل کے صدارتی انتخاب میں رجب طیب اردوغان کے ممکنہ مضبوط ترین حریفوں میں ہوتا تھا۔
امام وغلو اور دیگر ملزمان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
مئی 2026 میں ایک عدالتی حکم کے ذریعے ان کی جماعت سی ایچ پی جو کہ اپوزیشن کی مرکزی جماعت کے طور پر دیکھی جاتی ہے کی قیادت میں مداخلت کی گئی اور پارٹی رہنما کو ہٹا کر ان کے ایک پیش رو کو یہ عہدہ دے دیا گیا۔ اپوزیشن نے اس اقدام کو ’عدالتی بغاوت‘ قرار دیا۔
تاہم حکومت جمہوری اقدار سے انحراف کے الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اردوغان حکومت کا کہنا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کی کوشش اور اس کے بعد کی کارروائیوں کے بعد متعارف کرائی جانے والی تبدیلیوں نے ریاست کے لیے خطرہ سمجھی جانے والی تنظیموں سے منسلک افراد کو نظام سے الگ کر کے سیاسی استحکام، قومی سلامتی اور جمہوری اداروں کو مضبوط کیا ہے۔
یَلدِرِم بیازِت یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر نوری سالک کہتے ہیں کہ وہ موجودہ نظام کو اس ردِعمل کے طور پر دیکھتے ہوں جو ریاست نے فوجی بغاوت کی کوشش سے سامنے آنے والے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ اسے محض آمریت کی جانب پیش رفت کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ریاست کی جانب سے اپنے تحفظ کے فطری رجحان کا تسلسل سمجھتے ہیں۔
فوج کے کردار میں کمی
کئی دہائیوں تک ترکی کی فوج خود کو مصطفیٰ کمال اتاترک کی قائم کردہ سیکولر جمہوریہ کی محافظ سمجھتی رہی اور سیاسی بحرانوں کے ادوار میں بارہا سیاست میں مداخلت کرتی رہی۔
2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے بعد کیے گئے متعدد سٹرکچرل ریفارمز کے نتیجے میں مسلح افواج پر سویلین حکومت کے کنٹرول کو مزید مضبوط کیا گیا ہے۔
بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پچھلی ایک دہائی میں لائی جانے تبدیلیوں نے ترکی کی سیاست میں فوجی مداخلت کے دور کا عملاً خاتمہ کر دیا ہےفوج میں بھرتی اور کمان کے نئے ڈھانچے متعارف کرائے گئے، فوجی اکیڈمیوں اور ہسپتالوں کو ازسرِنو منظم کیا گیا یا بند کر دیا گیا، جبکہ فوجی یونٹوں کو شہروں کے مراکز سے دور منتقل کرنا شروع کیا گیا۔
بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان تبدیلیوں نے ترکی کی سیاست میں فوجی مداخلت کے دور کا عملاً خاتمہ کر دیا ہے۔
پروفیسر نوری سالک کہتے ہیں کہ فوج ہمیشہ سیاست کی نگرانی کے ایک مکینزم کے طور پر موجود رہی ہے۔
’ترکی کی جدید تاریخ میں [15 جولائی] کو پہلی بار عوام نے فوجی مداخلت کے خلاف عملی مزاحمت کی۔ اس لحاظ سے یہ ایک اہم موڑ تھا۔‘
ان کا ماننا ہے کہ اب فوج ترکی کی سیاست کا رخ موڑنے کی اپنی صلاحیت ’مکمل طور پر کھو چکی ہے۔‘
’یہی سب سے بڑی تبدیلی ہے۔‘
ناکام فوجی بغاوت کے بعد خارجہ پالیسی میں تبدیلی
ناکام فوجی بغاوت کے بعد ترکی کی خارجہ پالیسی میں بھی اہم تبدیلیاں آئیں۔
اس کے بعد کے مہینوں اور برسوں میں انقرہ نے شمالی شام میں سرحد پار تین بڑی فوجی کارروائیاں کیں، جن کا ہدف نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش) اور پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) دونوں تھے۔
حالیہ برسوں میں پی کے کے کے ساتھ امن عمل کی بحالی کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اس ضمن میں پیش رفت اب بھی غیر یقینی ہے۔ترکی وائی پی جی کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے منسلک سمجھتا ہے۔ پی کے کے کو ترکی، امریکہ اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ حالیہ برسوں میں پی کے کے کے ساتھ امن عمل کی بحالی کی کوششیں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم اس ضمن میں پیش رفت اب بھی غیر یقینی ہے۔
پروفیسر نوری سالک کا کہنا ہے کہ ناکام فوجی بغاوت کی کوشش نے ترک ریاست کے اندر سلامتی پر مبنی نقطۂ نظر کو مزید تقویت بخشی۔
ان کے بقول، ’ریاست کے تحفظ کو اب ہر چیز پر ترجیح حاصل ہے۔‘
نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ پہنچنے پر صدر ٹرمپ کا شاندار سرکاری استقبال کیا گیا۔ترکی نے نیٹو کے ایک اہم رکن ہونے کے باوجود زیادہ متنوع خارجہ پالیسی اپنائی ہے اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی مضبوط کیا ہے۔ روسی ساختہ ایس-400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری کے باعث انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان بڑا اختلاف پیدا ہوا، اور اس کے نتیجے میں امریکہ نے نہ صرف ترکی پر پابندیاں عائد کیں بلکہ اسے ایف-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت بھی بند کر دی۔
تاہم گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان پابندیوں کو ختم کریں گے اور ایف-35 طیاروں کی فروخت کے معاملے پر دوبارہ غور کرنے کے لیے آمادگی کا اشارہ دیا۔ البتہ ایسے کسی بھی اقدام کو کانگریس میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب یورپی یونین میں شمولیت کے لیے ترکی کی کوششوں میں بھی بہت کم پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ رکنیت سے متعلق مذاکرات 2018 سے عملاً منجمد ہیں۔