کشمیر کاز کے لیے پی پی پی اور جے یو آئی (ف) کا مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

image

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے کشمیر کاز کے لیے ایک مشترکہ اور مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے پر مکمل اتفاق کیا۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے بات کرتے ہوئے تجویز دی کہ آزاد کشمیر کے معاملے پر ایک 'ٹرتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن' (سچائی اور مفاہمت کا کمیشن) قائم کیا جانا چاہیے۔ بعد ازاں مظفرآباد میں پارٹی عہدیداران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے باقاعدہ طور پر اس کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کمیشن کے تحت سزا و جزا کے عمل کے ساتھ ساتھ تمام حقائق کو عوام کے سامنے لایا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اعلان کیا کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے انعقاد تک اسی خطے میں قیام کریں گے اور پارٹی کی انتخابی مہم کی خود قیادت کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات میں کشمیری عوام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا یہ دورہ صرف روایتی انتخابی مہم تک محدود نہیں بلکہ آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی ہر مشکل گھڑی میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے 30 روز سے جاری احتجاج کے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ اب مذاکرات کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ حقوق انتہاپسندی کے بجائے آئینی اور جمہوری دائرہ کار میں رہ کر ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے انتخابی بائیکاٹ کی سیاست کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کی امیدوں کو پورا نہ کیا گیا تو انتشاری قوتیں صورتحال کا غلط فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی اور گزشتہ تین نسلوں سے ان کی جماعت کشمیریوں کی آواز کو عالمی سطح پر اٹھا رہی ہے۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے تجویز پیش کی کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں آزاد جموں و کشمیر کو عبوری نمائندگی دی جائے، قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں خطے کو شامل کیا جائے اور عام انتخابات کے بعد مسئلہ کشمیر سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک مستقل آئینی فورم قائم کیا جائے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US