وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، مولانا طاہر اشرفی، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ راغب حسین نعیمی اور مفتی عبدالرحیم نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ صوفیا کرام، لعل شہباز قلندر اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کی دھرتی ہے جو ہمیشہ محبت اور اخوت کا پیغام دیتی ہے۔ انہوں نے قومی پیغام امن کمیٹی کو سندھ حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ جب سب مل کر امن کی کوشش کریں گے تو اللہ کی مدد ضرور شاملِ حال ہوگی۔ معرکہ حق کی کامیابی کے بعد آج دنیا بھر میں پاکستان کی بات ہو رہی ہے، ہم اپنی پاک فوج پر فخر کرتے ہیں۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے زور دیا کہ سیاست کے میدان میں صرف سیاست کی جائے، فوج میں ہمارے ہی بھائی اور بیٹے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے فوج کے جوانوں اور شہدا کی ماؤں سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ہمارے بچوں کی توہین بند کی جائے، کسی کو بھی اپنے شہدا کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد معاشرے سے متشدد رویوں کا خاتمہ کرنا ہے جس میں تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے لوگ شامل ہیں، کیونکہ وطن کی سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا فتنہ خوارج کو پہچان چکی ہے، قوم کے جوان سرحدوں پر تنخواہ کے لیے نہیں کھڑے بلکہ وہ ماؤں سے شہادت کی دعا لے کر جاتے ہیں اور اپنی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ کیا کوئی اپنے بیٹوں کو پیسوں کے لیے پیش کر سکتا ہے؟ ہمیں اپنے شہدا اور غازیوں کا حوصلہ بڑھانا چاہیے، ہم شہیدوں کو اپنے ماتھے کا جھومر سمجھتے ہیں جن کی بدولت پاکستان کو دنیا میں یہ مقام ملا ہے۔ اسلامی ریاستوں کی سرحدوں کے محافظوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں، ہم سکون سے سوتے ہیں اور وہ ہمارے لیے جانیں قربان کرتے ہیں۔ اب فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کو سب پہچان چکے ہیں، لہٰذا کسی بھی طور پر ان فتنوں کا سہولت کار نہ بنا جائے۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ راغب حسین نعیمی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر موقع پر پیار، محبت، اتحاد اور یگانگت کا مظاہرہ ہونا چاہیے، جب تمام مسالک اور مذاہب کے لوگ آپس میں مل بیٹھ کر مکالمہ کریں گے تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے اور امن قائم ہونے سے ملکی معاشی ترقی میں بھی اضافہ ہوگا۔
مفتی عبدالرحیم نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اور حکومت کے درمیان ایک خلا موجود ہے، جبکہ ملک میں اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے مدارس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مدارس میں کئی چیزوں پر لوگوں کو اطمینان نہیں ہوتا، اس لیے ہمیں مدارس کے نصاب اور طلبہ کی ذہن سازی پر مزید کام کرنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی 1973 کے اسلامی آئین، ایٹمی پروگرام اور عقیدہ ختمِ نبوت کی روحِ رواں ہے۔