اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور و ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر ٹام فلیچر نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں عالمی انسانی بحرانوں، موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور غزہ و افغانستان کی انسانی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دنیا بھر میں پیچیدہ انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کی خدمات کو سراہتے ہوئے 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کی معاونت پر ادارے کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی قومی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں او سی ایچ اے کا تعاون قابلِ قدر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے قومی اور صوبائی اداروں نے گزشتہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی قدرتی آفات سے نمٹنے کی استعداد میں نمایاں اضافہ کیا ہے، تاہم موسمیاتی خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے تیاری، مزاحمتی صلاحیت اور تمام سطحوں پر باہمی رابطے اور تعاون کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔
ٹام فلیچر نے پاکستان اور او سی ایچ اے کے درمیان دیرینہ تعاون کو سراہتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن ہی جنگوں سے جنم لینے والے انسانی اور معاشی بحرانوں سے مؤثر انداز میں نمٹنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ملاقات کے دوران ٹام فلیچر نے وزیراعظم کو غزہ کی سنگین انسانی صورتحال اور وہاں امدادی سرگرمیوں کے دوران او سی ایچ اے کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا، جبکہ افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے پاکستان کے مسلسل تعاون کو بھی سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی انسانی تعاون کے فروغ، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور متاثرہ و کمزور طبقات تک بروقت امداد کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ اور او سی ایچ اے کے ساتھ اپنا قریبی تعاون جاری رکھے گا۔