ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکی حملے جاری رہے تو جنگ کا دائرہ نئے محاذوں تک پھیل سکتا ہے، جبکہ ایران نے ابھی اپنی تمام عسکری صلاحیتیں استعمال نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر دشمن کی کارروائیاں جاری رہیں تو ایران کا جواب حالات کے مطابق اور توقعات سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا اپنے ہمسایہ ممالک یا خطے کی مسلم ریاستوں سے تصادم کا کوئی ارادہ نہیں، تاہم ملک کی سلامتی، قومی مفادات اور وقار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے بھی امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں باقی ماندہ انفراسٹرکچر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے لیے سرخ لکیر ہے اور امریکا کو اس معاملے میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا آئندہ ردعمل پہلے سے زیادہ شدید، وسیع اور تباہ کن ہوگا۔