انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیفٹ آرم سپنر محمد نواز کو اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر تین ماہ کی پابندی کی سزا سنائی گئی تاہم ان کی جانب سے جرم قبول کرنے اور تربیتی پروگرام میں شرکت کے بعد یہ پابندی ڈھائی ماہ بعد اٹھا لی گئی ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیفٹ آرم سپنر محمد نواز کو اینٹی ڈوپنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر تین ماہ کی پابندی کی سزا کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آئی سی سی کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ بیان کے مطابق اگر محمد نواز ممنوعہ مواد کے استعمال کے حوالے سے تربیتی پروگرام کا حصہ بننے کے بعد یہ پابندی کم کر کے ایک ماہ کردی گئی۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا کہنا ہے کہ سات فروری کو ٹی 20 ورلڈ کپ مقابلوں کے دوران کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف میچ کے بعد 32 سالہ محمد نواز کا ڈوپ ٹیسٹ کیا گیا تھا جس میں کاربوکسی ٹی ایچ سی نامی ممنوعہ مواد کے ثبوت ملے تھے۔
بیان کے مطابق تحقیقات پر محمد نواز نے یہ مواد استعمال کرنے کا اعتراف کیا اور یہ بھی بتایا یہ مادہ کسی بھی کرکٹ مقابلے کے درمیان نہیں استعمال کیا گیا اور اس کا تعلق کھیل میں کارکردگی بڑھانے کے حوالے سے نہیں تھا۔
عالمی کرکٹ کے نگران ادارے کے مطابق نتیجتاً محمد نواز کو تین ماہ کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا اطلاق یکم مئی 2026 سے ہوا اور تربیتی پروگرام کی تکمیل پر اسے کم کر کے ایک ماہ کر دیا گیا۔
آئی سی سی کے مطابق پابندی کی سزا قبول کرنے اور تربیتی پروگرام کا حصہ بننے کے بعد محمد نواز کی عارضی معطلی ڈھائی ماہ کے بعد اب ختم کردی گئی ہے۔
آئی سی سی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے مطابق محمد نواز کے سات فروری کو نیدرلینڈز کے خلاف میچ اور اس کے بعد تکم مئی تک کے میچوں کے ریکارڈز کو ناقابلِ قبول ہوں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپریل 2026 میں تصدیق کی تھی کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے آل راؤنڈر محمد نواز کی جانب سے ریکریئیشنل ڈرگ (تفریح کی خاطر منشیات کا استعمال) استعمال کرنے سے متعلق رپورٹ بھجوائی ہے جس پر پی سی بی نے مروجہ عمل کا آغاز کیا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان عامر میر نے بی بی سی اردو کے اسد صہیب کو بتایا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے بھجوائی گئی محمد نواز کی ڈرگ یوز رپورٹ مثبت آئی ہے جس پر اب پی سی بی کی جانب سے مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔
عامیر میر کا مزید کہنا تھا کہ ایسے معاملات پر آئی سی سی تحقیقات کرتا ہے اور اپنے نتائج دیتا ہے اور پھر کھلاڑیوں کو اپنا جواب جمع کروانے کا موقع دیا جاتا ہے۔ اُن کے بقول یہ مکمل طور پر آئی سی سی کا دائرہ اختیار ہے۔
محمد نواز ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کے سکواڈ میں شامل تھے اور اُنھوں نے پاکستان کی جانب سے ایونٹ میں کھیلے گئے سات میچز میں حصہ لیا تھا۔
پاکستان کی ٹیم ایونٹ کے سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکی تھی تھی اور محمد نواز بھی ورلڈ کپ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے تھے۔
32 سالہ محمد نواز پاکستان کی جانب سے چھ ٹیسٹ میچ، 44 ون ڈے اور 98 ٹی 20 میچز کھیل چکے ہیں۔ ٹیسٹ میچز میں اُن کی وکٹوں کی تعداد 16، ون ڈے میں 49 اور ٹی 20 میں وہ 98 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔
وہ گذشتہ کئی برس سے پاکستان کے ٹی 20 سکواڈ کا مسلسل حصہ رہے ہیں اور پاکستان کی جانب سے گذشتہ چار ٹی 20 ورلڈ کپ بھی کھیل چکے ہیں۔
’ریکریئشنل ڈرگ‘ کیا ہوتی ہے؟
ماہرین کہتے ہیں کہ ’ریکریشنل ڈرگز‘ کا تعلق کھلاڑی کی صلاحیت یا کارکردگی بڑھانے سے نہیں ہے، بلکہ یہ صرف تفریح کی خاطر استعمال کیے جانے والا کوئی بھی نشہ ہو سکتا ہے۔
راولپنڈی کی ’کسٹ‘ یونیورسٹی میں شعبہ فارمیسی کے اُستاد ڈاکٹر سالم کہتے ہیں کہ سادہ الفاظ میں اسے منشیات کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس کا مقصد خود کو پُرسکون کرنا ہوتا ہے۔
’اس میں دو طرح کی ڈرگز ہوتی ہیں، ایک آپ کو بہت زیادہ خوش کرتی ہیں جبکہ دوسری قسم کی منشیات نیند آور یا سکون دیتی ہیں۔ انھیں پارٹی ڈرگز بھی کہا جاتا ہے اور ریکریئشنل ڈرگز بھی اور اس کا مقصد آپ کو مصنوعی طریقے سے خوشی یا سکون فراہم کرنا ہے۔‘
ڈاکٹر سالم کہتے ہیں کہ یہ منشیات کسی کھلاڑی کی کارکردگی بڑھانے کا ذریعہ نہیں بنتیں بلکہ اس سے اُلٹا کارکردگی میں گراوٹ آنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ قوانین
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی ڈوپنگ قوانین کے مطابق آئی سی سی ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کا رُکن ہے۔ اس کا مقصد اس کھیل کی ساکھ کو بحال رکھنا، کھلاڑیوں کی صحت کا خیال اور کھیل کو ڈوپنگ سے پاک رکھنا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق آئی سی سی یہ یقنی بناتا ہے کہ انٹرنشنل مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو علم ہو کہ کون سی اشیا ممنوعہ ہیں اور انھیں اس کے استعمال سے گریز کرنا ہے۔
آئی سی سی قوانین کے مطابق اس کے پاس بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کرنے کا اختیار ہے۔
اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے آرٹیکل 2.1.2 کے مطابق کھلاڑی کے جسم سے دو نمونے اے اور بی حاصل کیے جاتے ہیں، جنھیں الگ الگ رکھا جاتا ہے۔ نمونہ اے کا پہلا تجزیہ کیا جاتا ہے اور اگر اس میں رپورٹ مثبت آ جائے تو پھر رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔
قوانین کے مطابق اگر کھلاڑی چاہے تو نمونہ بی کا بھی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ پاکستانی ذرائع بلاغ میں یہ رپورٹ گردش کر رہی ہیں کہ محمد نواز نمونہ بی کے تجزیے کی درخواست کر سکتے ہیں۔
اس تجزیے کے دوران کھلاڑی یا اس کا نمائندہ یا متعلقہ کرکٹ بورڈ خود سیمپل بی نمونے کے تجزیے کا جائزہ لے سکتا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق اگر سیمپل منفی آ جائے تو پھر مذکورہ کھلاڑی کے خلاف کارروائی روک دی جاتی ہے اور اسے سارے معاملے سے کلیئر کر دیا جاتا ہے۔
آئی سی سی قوانین کے مطابق ٹیسٹ مثبت آنے پر کھلاڑی پر چار سال تک کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ لیکن اگر کرکٹر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے کہ ممنوعہ مواد غیر ارادی طور پر اس کے جسم میں گیا تو سزا میں کمی کی جا سکتی ہے۔