راولپنڈی کے علاقے گلستان کالونی کے قریب نالہ لئی ایک ہی خاندان کے لیے قیامت بن گیا، جہاں چھ سالہ محمد زاہد کھیلتے ہوئے گہرے پانی میں گر کر ڈوب گیا، جبکہ اسے بچانے کے لیے جان کی پروا کیے بغیر نالے میں چھلانگ لگانے والے اس کے والد مہربان بھی پانی کی نذر ہو گئے۔
لواحقین کے مطابق ہفتہ کی صبح تقریباً 10 بجے محمد زاہد اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ نالہ لئی کے کنارے کھیل رہا تھا کہ اچانک پھسل کر پانی میں جا گرا۔ معصوم بچی بھاگ کر قریبی چوک میں محنت مزدوری کرنے والے اپنے والد مہربان کو اطلاع دینے پہنچی۔ اطلاع ملتے ہی مہربان موقع پر پہنچے اور پانی میں ایک جسم نما شے دیکھ کر یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید ان کا بیٹا ہے، فوراً نالے میں چھلانگ لگا دی، مگر وہ بھی تیز بہاؤ اور گہرے پانی میں ڈوب گئے۔
متاثرہ خاندان کے مطابق ریسکیو 1122 کی ٹیمیں واقعے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر امدادی کارروائی بروقت شروع کی جاتی تو دونوں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ ایک غوطہ خور نے صرف ایک مرتبہ پانی میں اتر کر تلاش کی اور پھر کافی دیر تک سرچ آپریشن مؤثر انداز میں جاری نہیں رکھا گیا، جس سے اہل خانہ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر سٹی سعد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نالہ لئی میں پانی کی گہرائی تقریباً 35 فٹ ہے اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ان کے مطابق مزید نفری اور اضافی غوطہ خوروں کو طلب کر لیا گیا ہے تاکہ تلاش کا عمل تیز کیا جا سکے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود نالہ لئی کے اطراف نہ حفاظتی باڑ موجود ہے اور نہ ہی ایسے انتظامات کیے گئے ہیں جو شہریوں کو خطرناک مقامات سے دور رکھ سکیں۔
لواحقین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فوری نوٹس لینے، ریسکیو آپریشن کو مؤثر بنانے، واقعے کی شفاف تحقیقات کرانے اور اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شام ہونے سے قبل سرچ آپریشن میں تیزی لائی جائے تاکہ دونوں افراد کی لاشیں جلد از جلد نکالی جا سکیں۔