ایران سے متعلق حالیہ علاقائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے بعد عراق نے ایندھن کی ترسیل کے لیے متبادل زمینی راستوں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہزاروں آئل ٹینکر زمینی راستے کے ذریعے شام پہنچ رہے ہیں، جہاں سے ایندھن کو بحیرۂ روم کی بندرگاہوں تک منتقل کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے نتیجے میں خطے میں توانائی کی ترسیل کے روایتی راستوں میں تبدیلی آ رہی ہے، جبکہ شام کی بندرگاہیں تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں موجود کشیدگی برقرار رہی تو عراق سمیت دیگر علاقائی ممالک بھی توانائی کی برآمدات کے لیے متبادل راستوں کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اس رجحان سے مشرقِ وسطیٰ کے توانائی کے تجارتی نقشے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہونے کا امکان ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔