"نادر علی کے پوڈکاسٹ سے متعلق تنازع سب جانتے ہیں۔ سچ کہوں تو ان کے کئی متنازع پوڈکاسٹس پہلے ہی سامنے آ چکے تھے، اسی لیے میں شروع میں ان کے شو میں جانے کے حق میں نہیں تھی۔ لیکن وہ بار بار رابطہ کرتے رہے، پھر ایک جاننے والے کے ذریعے حسن احمد سے بھی بات کی۔ حسن نے کہا کہ انٹرویو دے دو، اس لیے میں راضی ہو گئی۔ مجھے لگا کہ وہ مجھ سے ایسا کیا پوچھیں گے، میں تو ایک سیدھی سادی انسان ہوں۔ انٹرویو کے دوران سب کچھ بالکل معمول کے مطابق تھا، وہ بھی بہت اچھے انداز میں پیش آئے۔ ایک ہفتے بعد جب پوڈکاسٹ نشر ہوا تو لوگوں نے مجھے ٹیگ کرنا شروع کر دیا۔ پہلے تو مجھے سمجھ ہی نہیں آئی کہ معاملہ کیا ہے، پھر دوبارہ ویڈیو دیکھی تو 'اللہ آپ کو ہدایت دے' والا جملہ سنائی دیا۔ اس وقت میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی کیونکہ ہمارے ہاں لوگ اکثر یہ جملہ عام گفتگو میں بھی بول دیتے ہیں۔ بعد میں لوگوں نے اسے سنجیدگی سے لیا اور بات کافی آگے بڑھ گئی۔ ایک لحاظ سے یہ واقعہ میرے اور نادر علی، دونوں کے لیے سبق ثابت ہوا۔ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال سمیت مختلف ممالک کے لوگوں نے بھی میرا بھرپور ساتھ دیا۔"
"جہاں تک پاکستان میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے کا تعلق ہے، تو شہری علاقوں میں مجھے کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ یہاں لوگ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ البتہ دیہی علاقوں میں رہنے والی اقلیتوں کو آج بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ وہاں سوچ اب بھی کافی حد تک قدامت پسند ہے۔"
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اور ماڈل سنیتا مارشل نے حالیہ انٹرویو میں پہلی بار نادر علی کے پوڈکاسٹ سے جڑے تنازع پر کھل کر بات کرتے ہوئے کئی دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ابتدا میں اس پوڈکاسٹ میں شرکت نہیں کرنا چاہتی تھیں، تاہم مسلسل اصرار اور اپنے شوہر حسن احمد کے مشورے پر انہوں نے انٹرویو دینے کا فیصلہ کیا۔
سنیتا مارشل نے کہا کہ ریکارڈنگ کے دوران انہیں کسی بھی بات پر اعتراض محسوس نہیں ہوا، لیکن قسط نشر ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ہونے والے ردعمل نے انہیں حیران کر دیا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے دوبارہ پوڈکاسٹ دیکھا تو انہیں اندازہ ہوا کہ ایک مخصوص جملے پر لوگوں نے شدید ردعمل دیا، حالانکہ اس وقت انہوں نے اسے معمول کی گفتگو سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا۔
اداکارہ نے اس پورے معاملے کو ایک سبق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے انہیں بھی بہت کچھ سکھایا، جبکہ نادر علی کے لیے بھی یہ ایک اہم تجربہ ثابت ہوا۔ انہوں نے اپنے حق میں سامنے آنے والی عوامی حمایت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک سے ملنے والی محبت ان کے لیے انتہائی حوصلہ افزا تھی۔
اپنی گفتگو کے دوران سنیتا مارشل نے پاکستان میں اقلیت کے طور پر زندگی گزارنے کے تجربے پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے شہروں میں انہیں کبھی امتیازی سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم ان کے مطابق دیہی علاقوں میں رہنے والی اقلیتیں آج بھی مختلف سماجی مشکلات اور تعصبات کا سامنا کرتی ہیں۔