جب مجھے فلم 'اوم شانتی اوم' میں شاہ رخ خان کے والد کا کردار ملا تو میں نے فیصلہ کیا کہ اس کے لیے معاوضہ نہیں لوں گا۔ میرے لیے اتنی بڑی بالی ووڈ فلم کا حصہ بننا ہی اعزاز تھا۔ جب پروڈکشن ٹیم نے کہا کہ بغیر معاوضے کے کام نہیں ہو سکتا تو میں نے کہا کہ مجھے صرف ایک روپیہ دے دیں۔ میرے اس جواب پر فرح خان اور شاہ رخ خان دونوں حیران رہ گئے لیکن آخرکار انہوں نے میری توقع سے کہیں زیادہ معاوضہ دیا۔
پاکستان کے سینئر اداکار جاوید شیخ نے بالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم "اوم شانتی اوم" سے جڑا ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس فلم میں صرف ایک روپے کے عوض کام کرنے پر بھی تیار تھے۔
حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید شیخ نے کہا کہ شاہ رخ خان کے ساتھ کام کرنا ان کے کیریئر کے یادگار تجربات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے شاہ رخ خان کی عاجزی، خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شخصیت نے شوٹنگ کے دوران انہیں بے حد متاثر کیا۔
اداکار نے بتایا کہ فلم کی ہدایت کار فرح خان نے خود انہیں شاہ رخ خان کے والد کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔ بعد میں جب پروڈکشن ٹیم نے معاہدے اور معاوضے کے حوالے سے رابطہ کیا تو انہوں نے واضح کر دیا کہ وہ اس کردار کے لیے کوئی فیس نہیں لینا چاہتے۔
جاوید شیخ کے مطابق ان کے نزدیک اتنی بڑی بین الاقوامی فلم کا حصہ بننا اور پاکستان کی نمائندگی کرنا کسی بھی مالی فائدے سے زیادہ اہم تھا۔ تاہم پروڈکشن ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک پیشہ ور فنکار کو بغیر معاوضے کے کام نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی لیے انہوں نے علامتی طور پر صرف ایک روپے لینے کی بات کی، جس پر فرح خان اور شاہ رخ خان بھی حیرت میں پڑ گئے۔ بعد ازاں فلم سازوں نے ان کے جذبے کو سراہتے ہوئے انہیں مناسب اور توقع سے زیادہ معاوضہ ادا کیا۔