ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں فوڈ پانڈا رائیڈر پر مبینہ تشدد کے واقعے پر اداکار شمون عباسی نے بھی ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے مسلسل پیغامات کے ذریعے انصاف، قانون کی عملداری اور متاثرہ رائیڈر کی مدد کا مطالبہ کیا ہے۔
شمون عباسی نے ابتدائی پوسٹ میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ مبینہ طور پر فوڈ پانڈا رائیڈر پر ہاکی سے حملہ کرنے اور اس کی موٹرسائیکل کو نقصان پہنچانے والے شخص کی شناخت میں مدد کی جائے تاکہ اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر رائیڈر سے معمولی غلطی بھی ہوئی تھی تو اس کے باوجود اس کے ساتھ ایسا پرتشدد رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، اس لیے بااثر افراد کی جانب سے محنت کش طبقے کو دبانے کی روایت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
بعد ازاں اداکار نے ایک اور پوسٹ میں بتایا کہ عوامی تعاون کے بعد پولیس نے ملزم، سید عین الہادی، کو گرفتار کر لیا ہے۔ انہوں نے اس پیش رفت کو عوامی اتحاد کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ رائیڈر کو انصاف فراہم کریں اور ملزم سے اپنے رویے پر عوامی معافی بھی دلوائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔
شمون عباسی نے اس کے بعد متاثرہ فوڈ پانڈا رائیڈر کی مالی معاونت کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ رائیڈر کی مدد کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا اگر کسی کے پاس اس سے رابطے کا ذریعہ یا فوڈ پانڈا کے ذریعے اس تک رسائی کا کوئی طریقہ موجود ہے تو آگاہ کیا جائے تاکہ متاثرہ شخص کی عملی مدد کی جا سکے۔
تاہم بعد میں شیئر کی گئی ایک نئی پوسٹ میں اداکار نے اس معاملے پر اپنی توقعات پوری نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ انہیں امید تھی کہ گرفتاری کے بعد کم از کم ملزم کی جانب سے معذرت یا وضاحتی ویڈیو سامنے آئے گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی گردش کر رہی ہیں جن میں مبینہ طور پر ملزم اسی رات اپنے علاقے میں آزادانہ گھومتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ بعض افراد اسے ذہنی مسائل کا شکار بھی قرار دے رہے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
اداکار نے مزید کہا کہ وہ اب اس معاملے پر بحث کے بجائے متاثرہ رائیڈر کی مدد کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے فوری گرفتاری کو سراہتے ہوئے سوال بھی اٹھایا کہ رہائی یا قانونی کارروائی کی تفصیلات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان کیوں جاری نہیں کیا گیا۔ اپنے پیغام کے اختتام پر شمون عباسی نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید غیر ضروری بحث نہیں چاہتے، بلکہ صرف اپنی مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ بھی اسی احساس میں شریک ہیں تو تبصروں کے بجائے ایک افسردہ ایموجی کے ذریعے اپنا پیغام دیں۔