ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس: اسحاق ڈار کا دہشت گردی، افغانستان اور علاقائی تعاون پر زور

image

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام، رابطہ کاری اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے، جبکہ افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی خطے کو درپیش سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے۔

کرغزستان کے شہر چولپون آتا میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ایس سی او کے قیام کے 25 سال مکمل ہونے پر تنظیم کی کامیابیوں کو سراہا اور کہا کہ شنگھائی اسپرٹ باہمی اعتماد، مساوات، ثقافتی احترام اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر مبنی ہے، جو مستقبل میں بھی تنظیم کی رہنمائی کرتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں ایس سی او کو ڈیجیٹل شمولیت، توانائی کے تحفظ، مالیاتی تعاون اور علاقائی روابط کے فروغ پر توجہ دینا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے تاپی گیس پائپ لائن، کاسا-1000 منصوبے اور باہمی تجارت میں قومی کرنسیوں کے استعمال جیسے اقدامات اہم ہیں۔

افغانستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں رہا ہے، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گرد تنظیمیں، جن میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور ای ٹی آئی ایم شامل ہیں، اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی اس صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں سال اب تک پاکستان میں دہشت گردی کے دو ہزار سے زائد واقعات میں 560 سے زیادہ شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ بعض حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ایس سی او سے مطالبہ کیا کہ وہ افغان طالبان حکومت پر زور دے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے بین الاقوامی وعدوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تنازعات کا پائیدار حل صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام سے ممکن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے اپریل 2026 میں ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مذاکرات کی میزبانی کی جس کے نتیجے میں جون 2026 میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کیا اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ جاری مذاکرات کو مستقل اور پرامن حل کی جانب آگے بڑھانے میں تعاون کرے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان 2025-26 کے دوران ایس سی او کے ریجنل اینٹی ٹیررازم اسٹرکچر کی سربراہی کر رہا ہے جبکہ ستمبر میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹس کی چیئرمین شپ سنبھالے گا اور 2027 میں تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی پاکستان کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی چیئرمین شپ کے دوران علاقائی روابط، تجارت، زرعی تعاون، نوجوانوں کی ترقی اور عوامی سطح پر روابط کے فروغ کو ترجیح دے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) وسطی ایشیائی ممالک کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے والا ایک اہم منصوبہ ہے، جو پورے خطے کی معاشی ترقی اور رابطہ کاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

خطاب کے اختتام پر نائب وزیراعظم نے ایس سی او کے منشور کے مقاصد سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں دیرپا امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US