میری قبر پہلے ہی تیار ہے عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے انکشاف نے نئی بحث چھیڑ دی

image

میں نے اپنی آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ عیسیٰ خیل میں میری قبر پہلے سے تیار ہے۔ اگر میری زندگی میں آؤ گے تو میں خود تمہیں وہ جگہ دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لینا۔

ہمارا اپنا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں، مذاق میں کہتا ہوں کہ ایک میری اہلیہ کے لیے ہے، لیکن حقیقت میں صرف اپنی قبر کی جگہ رکھی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ جب میں نے وہاں فارم ہاؤس اور مسجد بنوائی تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ زندگی میں میں نے اپنے قریبی دوستوں، عزیز و اقارب اور اپنی والدہ کو کھویا ہے اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔

پاکستان کے لیجنڈری لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی آخرت کی تیاری سے متعلق ایسا انکشاف کر دیا جس نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔ معروف گلوکار نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ اپنی آخری آرام گاہ بھی خود منتخب کر چکے ہیں۔

عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کی ناپائیداری اور اپنے پیاروں کی جدائی نے انہیں ہمیشہ موت کے بارے میں سوچنے پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فارم ہاؤس اور مسجد کی تعمیر کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اپنی آخری منزل کی جگہ بھی پہلے سے طے ہونی چاہیے اسی لیے انہوں نے خاندانی قبرستان میں اپنے لیے قبر مخصوص کر لی۔

ان کے اس بیان کے سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صارفین کی آرا تقسیم ہو گئیں۔ بعض افراد نے ان کے اقدام کو آخرت کی یاد اور مضبوط ایمان کی علامت قرار دیا، جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ اصل تیاری قبر بنانے کے بجائے نیک اعمال اور آخرت کی فکر کرنا ہے۔

چند صارفین نے یہ رائے بھی دی کہ قبر پہلے سے تیار کرنے کے بجائے ایسے وسائل فلاحی کاموں، مثلاً اولڈ ایج ہوم یا دیگر سماجی منصوبوں پر خرچ کیے جا سکتے ہیں جبکہ کئی مداحوں نے کہا کہ موت کو یاد رکھنا انسان کو اپنی زندگی بہتر بنانے کی طرف راغب کرتا ہے۔ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا یہ بیان اب سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US