بنگلہ دیش کے ضلع مداری پور کے رہائشی سلیم میاں نے اپنی معذور بیٹی کو مختلف اسکولوں میں داخل کروانے کی کوشش کی، لیکن کئی اسکولوں نے اسے داخلہ دینے سے انکار کر دیا۔ اس صورتحال نے انہیں مایوس کرنے کے بجائے ایک نیا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا، اور انہوں نے معذور بچوں کے لیے اپنا الگ اسکول قائم کر دیا۔
سلیم میاں نے 2018 میں اس اسکول کی بنیاد رکھی تاکہ ایسے بچے، جنہیں عام تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں ملتا، تعلیم حاصل کر سکیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ اسکول ترقی کرتا گیا اور اب یہاں 200 سے زیادہ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔
اس اسکول میں بچوں کو عام نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ طلبہ کو نقشی کانتھا کڑھائی اور سلائی کی تربیت دی جاتی ہے، جس سے وہ عملی مہارتیں حاصل کرتے ہیں اور خود مختار زندگی گزارنے کے قابل بنتے ہیں۔
اسکول کے بانی سلیم میاں نے کہا، "میری اپنی زندگی کے تجربے نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر آمادہ کیا۔ میں چاہتا تھا کہ ایک ایسی جگہ ہو جہاں ہر بچے کو سیکھنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملے۔"
سلیم میاں کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ کوئی بھی بچہ صرف معذوری کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے، بلکہ اسے اپنی صلاحیتیں نکھارنے اور بہتر مستقبل بنانے کا پورا موقع ملے۔
یہ اسکول اب نہ صرف معذور بچوں کو تعلیم فراہم کر رہا ہے بلکہ انہیں روزگار کے قابل بنانے کے لیے عملی تربیت بھی دے رہا ہے، جس سے وہ مستقبل میں زیادہ خود مختار زندگی گزار سکیں۔