ترکیہ کے شہر مردین سے تعلق رکھنے والے 78 سالہ شیخمس ارگین اوغلو نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ماحول کی بہتری کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ انہوں نے کئی دہائیوں کے دوران تقریباً 30 سے 35 ہزار پودے لگائے، جبکہ شہر کے قریب 50 تاریخی فواروں کو دوبارہ فعال بنا کر انہیں عوام کے استعمال کے قابل بھی بنایا۔
ارگین اوغلو روزانہ رات گئے اپنا کام شروع کرتے ہیں اور ایک بجے سے آب پاشی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ وہ ایسی جگہوں کو، جہاں کبھی کچرے کے ڈھیر ہوا کرتے تھے، محنت اور لگن سے سرسبز مقامات میں تبدیل کر چکے ہیں۔ یہ تمام کام انہوں نے اپنی ذاتی کوشش اور وسائل سے انجام دیا۔
ان کا کہنا ہے کہ درخت لگانا ان کے لیے صرف ایک مشغلہ نہیں بلکہ زندگی کا مقصد بن چکا ہے۔ ان کے بقول، وہ آخری سانس تک پودے لگاتے رہیں گے کیونکہ یہی کام انہیں سب سے زیادہ خوشی دیتا ہے۔
شیخمس ارگین اوغلو نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ان خدمات کے عوض کبھی کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا۔ ان کی خواہش صرف یہ ہے کہ مردین کو زیادہ سرسبز بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ایک بہتر اور صاف ماحول میں زندگی گزار سکیں۔