سرگودھا سے گلاسگو تک: فاطمہ زہرا کا دولتِ مشترکہ کھیلوں میں پاکستان کے لیے پہلا تمغہ جیتنے کا سفر

پاکستان کی باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی بنا لیا ہے۔ نیوزی لینڈ کی جارڈن ولسن کو 0-5 سے شکست دینے کے بعد وہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زہرا اب سیمی فائنل میں کینیڈا کی مریم ال مہدیہ کا سامنا کریں گی۔

پاکستان کی باکسر فاطمہ زہرا نے کامن ویلتھ گیمز میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے کم از کم کانسی کا تمغہ یقینی بنا لیا ہے۔ وہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی ہوں گی۔

پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زہرا گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان ویمنز باکسنگ ٹیم کی کپتان کی حیثیت سے شریک ہیں۔

فاطمہ زہرا جب گلاسگو روانہ ہوئیں تو ان کے دل و دماغ میں چھ مرتبہ کی عالمی چیمپئن اور اولمپک کانسی کا تمغہ جیتنے والی باکسر میری کوم کا نام تھا۔

فاطمہ زہرا میری کوم سے متاثر ہیں اور ان کی زندگی پر بننے والی فلم دیکھ کر گلاسگو گئی تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ بھی پاکستان کے لیے کوئی تاریخی کامیابی حاصل کریں۔

گلاسگو میں فاطمہ زہرا کا پہلا مقابلہ افریقی ملک لیسوتھو کی ریلیبوہ سیگیوٹی کے خلاف تھا۔ ایونٹ میں برقرار رہنے کے لیے ان کے لیے یہ مقابلہ جیتنا ناگزیر تھا۔

فاطمہ نے قد میں خود سے بلند حریف ریلیبوہ سیگیوٹی کے خلاف ابتدا ہی سے جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔ پہلے چند سیکنڈز ہی میں انھوں نے حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور اپنی رفتار اور مسلسل دباؤ سے حریف کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔

مقابلہ دو راؤنڈ مکمل ہونے سے پہلے ہی فاطمہ زہرا کی فتح پر ختم ہو گیا۔

کمنٹیٹرز بھی ان کی کارکردگی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انھیں غیر معمولی صلاحیتوں کی حامل باکسر قرار دیا۔

تاہم اصل امتحان اگلے مرحلے میں تھا جہاں ان کا سامنا نیوزی لینڈ کی تجربہ کار اور نسبتاً طاقت ور باکسر جارڈن ولسن سے ہوا۔

اس مقابلے میں فاطمہ کے مکوں کے ساتھ ان کی رفتار، تکنیک اور سٹیمنا بھی آزمائش میں تھے۔ جارڈن ولسن مسلسل کوشش کرتی رہیں کہ فاطمہ کے قریب آ کر اپنی جسمانی طاقت کا فائدہ اٹھائیں، لیکن پاکستانی باکسر نے پورے مقابلے میں فاصلہ برقرار رکھا اور موقع ملتے ہی مؤثر مکے مار کر پوائنٹس حاصل کرتی رہیں۔

تینوں راؤنڈز کے اختتام پر پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر فیصلہ فاطمہ زہرا کے حق میں دیا۔

اس کامیابی کے ساتھ ہی فاطمہ زہرا نے سیمی فائنل میں جگہ بنالی اور پاکستان کے لیے خواتین باکسنگ کا پہلا کامن ویلتھ گیمز میڈل یقینی بنا لیا۔

کامن ویلتھ گیمز کے باکسنگ فارمیٹ کے تحت سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والے دونوں باکسر کم از کم کانسی کے تمغے کے حق دار ہوتے ہیں۔ اسی لیے فاطمہ پاکستان کے لیے کوئی بھی میڈل یقینی بنانے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔

یہ پاکستان کو باکسنگ میں 12 برس بعد ملنے والا کامن ویلتھ گیمز کا میڈل ہے۔

’ان 11 منٹوں میں فاطمہ نے اپنی جان لڑا دی‘

یہ تاریخی مقابلہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سیکریٹری جنرل میجر عرفان یونس بھی دیکھ رہے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں معلوم تھا کہ فاطمہ زہرا ایک غیر معمولی ٹیلنٹ اور جیت کا جنون رکھنے والی کھلاڑی ہیں۔

ان کے بقول: ’فاطمہ نے ان 11 منٹوں میں اپنی جان لڑا دی۔ ہمارے لیے وہ 11 منٹ، 11 گھنٹوں کے برابر تھے۔ جب جیت کا اعلان ہوا تو خوشی اور جوش کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں تھا۔‘

آج 31 جولائی کو فاطمہ زہرا کینیڈا کی میری ال مہدیہ کے خلاف سیمی فائنل میں مقابلہ کریں گی۔

سیمی فائنل میں کامیابی انھیں کم از کم چاندی کے تمغے کی دوڑ میں شامل کر دے گی، جبکہ شکست کی صورت میں کانسی کا تمغہ ان کے نام ہو گا۔

فاطمہ زہرا پانچ بہنوں اور دو بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کی بڑی بہن دعا زہرا بھی باکسر اور قومی چیمپیئن ہیں، تاہم وہ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت نہیں کر رہیں۔

فاطمہ کے والد ثاقب نور ڈسٹرکٹ ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا میں کلاس فور ملازم ہیں اور خود بھی ماضی میں مارشل آرٹس سے وابستہ رہے ہیں۔

فاطمہ کی کامیابی کے بعد بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’میں بھی کسی زمانے میں کھیل کا دیوانہ تھا، مارشل آرٹس کھیلتا تھا، لیکن ایک وقت آیا کہ مجھے گزر اوقات کے لیے اپنا شوق ترک کرنا پڑا۔ جب میرے ہاں پانچ بیٹیاں ہوئیں تو سوچا کہ اپنے خواب ان کے ذریعے پورے کروں گا۔‘

ان کے مطابق اُس وقت سرگودھا میں لڑکیوں کے لیے کھیلوں کی مناسب سہولیات موجود نہیں تھیں، اس لیے وہ خود ہی بیٹیوں کو ورزش کرواتے اور ان کی خوراک کا خیال رکھتے تھے۔

ثاقب نور بتاتے ہیں کہ محدود تنخواہ کے باعث وہ ڈیوٹی کے بعد باربی کیو کا سٹال بھی لگاتے تھے، جس میں ان کی بڑی بیٹی دعا زہرا اور فاطمہ زہرا مدد کیا کرتی تھیں۔

’فاطمہ مرغی دھوتی تھی، اس کو مصالحہ لگواتی اور میرا سٹال تیار کرتی تھی۔‘

بعد ازاں جب بین الاقوامی باکسر راحیل عدنان نے سرگودھا میں خواتین کے لیے باکسنگ کلب قائم کیا تو ثاقب نور نے اپنی دونوں بیٹیوں دعا اور فاطمہ کو وہاں داخل کرا دیا۔

اس وقت فاطمہ نویں جماعت کی طالبہ جبکہ دعا دسویں جماعت میں تھیں۔

ثاقب نور کا کہنا تھا کہ صبح کام پر جانے سے پہلے وہ بچوں کو سکول چھوڑتے، چھٹی کے بعد انھیں واپس گھر لاتے اور پھر شام کو دوبارہ کلب چھوڑنے جاتے اور رات کو واپس لاتے تھے۔

طعنے، مشکلات اور مسلسل محنت

ثاقب نور کے مطابق ابتدا میں لوگوں نے انھیں طعنے بھی دیے۔

’کہا جاتا تھا کہ انھیں دیکھیں، یہ کیا کر رہے ہیں۔ ایک مرتبہ فاطمہ صبح ورزش کر رہی تھیں تو ایک شخص نے انھیں روک دیا۔ لیکن میں نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ اپنی بیٹیوں کی مکمل حمایت کروں گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ فاطمہ اور دعا نے باقاعدہ باکسنگ شروع کی تو جلد ہی انھیں کامیابیاں ملنا شروع ہوگئیں اور اس میں کوچ راحیل عدنان کا اہم کردار تھا۔

فاطمہ، جنھیں باکسنگ حلقوں میں ’ہنی باکسر‘ اور ’جنونی باکسر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 60 کلوگرام کیٹیگری میں پاکستان کی نمایاں باکسرز میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ پاکستان آرمی کی نمائندگی کرتی ہیں۔

انھوں نے 2018 میں باکسنگ کا آغاز کیا اور 2021 سے 2025 تک مسلسل آٹھ قومی ٹائٹلز جیتے۔ 2025 کے ریاض اسلامک سالیڈیرٹی گیمز میں بھی وہ کانسی کا تمغہ جیت چکی ہیں۔

کوچ راحیل عدنان بتاتے ہیں کہ 2017 میں خواتین کا باکسنگ کلب تو قائم ہو گیا تھا، لیکن وسائل نہ ہونے کے برابر تھے۔

ان کے مطابق پہلی مرتبہ باکسنگ گلوز اور دیگر سامان خریدنے کے لیے انھوں نے کئی ماہ تک اپنی تنخواہ سے پیسے بچائے۔

ان کے مطابق یہ وہ سامان تھا جو فیکٹریوں میں ریجیکٹ کردیا جاتا تھا اور سستے داموں فروخت ہوتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پریکٹس کے لیے مستقل جگہ بھی میسر نہیں تھی۔ ’سپورٹس کمپلیکس میں کبھی ایک کونے میں تو کبھی دوسرے کونے میں مشق کرتے تھے، لیکن ہمت نہیں ہاری۔‘

راحیل عدنان کے مطابق اسی محنت کا نتیجہ تھا کہ 2023 کی نیشنل چیمپیئن شپ میں سرگودھا کی خواتین باکسرز نے پانچوں ٹائٹل جیت لیے۔

راحیل عدنان کے مطابق فاطمہ زہرا غیر معمولی محنتی کھلاڑی ہیں۔

’وہ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے مشق کرتی ہیں۔ عید ہو یا کوئی اور دن، انھیں ٹریننگ چھوڑتے نہیں دیکھا۔‘

ان کے مطابق فاطمہ کے کیریئر کا پہلا مقابلہ 2018 میں ہوا تھا لیکن وہ یہ مقابلہ ہار گئی تھیں، ’تاہم اس کے بعد وہ کبھی کوئی مقابلہ نہیں ہاریں۔‘

ثاقب نور کا کہنا تھا کہ فاطمہ اپنا پہلا مقابلہ لاہور میں ہار گئی تھیں۔ جب وہ گھر پہنچیں تو تھکی ہوئی تھیں اور سو گئیں۔ ’سوتے ہوئے انھوں نے ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ صرف گولڈ۔‘

ثاقب نور کے مطابق جب فاطمہ سو کر اٹھیں تو ’میں نے پوچھا کہ بیٹا اب کیا پروگرام ہے؟ فاطمہ نے جواب دیا کہ مشکل ضرور ہے مگر اب باکسنگ کو چھوڑ نہیں سکتی۔ آپ سرپرستی جاری رکھیں، میں گولڈ جیت کر لاؤں گی۔ پھر واقعی ایسا ہوا، وہ ہمیشہ میڈل جیت کر لائیں۔‘

’وسائل ہوں تو فاطمہ مزید آگے جا سکتی ہیں‘

پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل محمد ناصر اعجاز ٹنگ کے مطابق فاطمہ زہرا نے ثابت کر دیا ہے کہ محنت، جذبے اور مستقل مزاجی سے بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں خواتین باکسنگ کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں، تاہم کم عرصے میں خواتین کھلاڑیوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ان کے بقول فاطمہ کی آئیڈیل میری کوم ہیں، لیکن مناسب سہولیات اور وسائل ملیں تو پاکستانی باکسر ان سے بھی بہتر کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’فاطمہ ابھی کم عمر ہیں اور ان کے پاس آگے بڑھنے کے لیے بہت وقت موجود ہے۔ اگر انھیں پیشہ ورانہ معاونت اور مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ پاکستان کے لیے مزید بین الاقوامی تمغے جیت سکتی ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US