کاہنہ کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ویلنشیاء ٹاؤن میں ایک خاتون علینہاور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے مقدمے میں مقتول بچوں کی والدہکو مرکزی ملزمہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی شہریت رکھنے والی خاتون ذہنی مسائل کا شکار تھیں اور آن لائن موت کے طریقوں کے بارے میں معلومات تلاش کرتی رہتی تھیں۔
فائل فوٹولاہور پولیس نے چند روز قبل کاہنہ کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ویلنشیاء ٹاؤن میں ایک خاتون علینہ اور ان کے تین بچوں کی ہلاکت کے مقدمے میں مقتول بچوں کی والدہ کو مرکزی ملزمہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ’امریکی شہریت رکھنے والی خاتون ذہنی مسائل کا شکار تھیں اور آن لائن موت کے طریقوں کے بارے میں معلومات تلاش کرتی رہتی تھیں۔‘
یاد رہے کہ 17 جولائی کو لاہور کے علاقے کاہنہ میں قتل کا ایسا واقعہ سامنے آیا جس میں 15 سے نو سال کی عمر کے تین بچے اپنے گھر کے عقبی حصے میں مردہ پائے گئے تھے جبکہ ان بچوں کی والدہ کی بھی ہسپتال نے مردہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا نے بی بی سی کی آسیہ انصر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’16جولائی کو امریکن نیشنل خاتون نے پوٹاشیم سائنائیٹ نامی زہریلے کیمیکل والا پارسل وصول کیا اور 17جولائی کوآئس کریم میں یہ زہر ملا کر اپنے بچوں 15سالہ ریحان، 11سالہ اریشا اور9 سالہ ارسل کو کھلا دی اور خود بھیوہی کھا کے موت کے منہ میں چلی گئیں۔‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق ’جب یہ قتل کا واقعہ سامنے آیا تو ہم نے ہر زاویے سے اس کیس کی تفتیش کی۔ لڑکی کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ ان کی بیٹی کا شوہر ناصرڈوگر اس قتل میں ملوث ہے تو ہم نے اس کا پولی گراف ٹیسٹ بھی کروایا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ خاتون کے شوہر سے تفصیلی تفتیش کی گئی تاہم پولی گراف ٹیسٹ میں بھی وہ کلیئر نکلے۔ ہم نے خاتون اور ان کے شوہر کے فون کا تجزیہ بھی کروایا تاہم وہ اور پھر ہماری تفتیش میں سامنے آیا کہ نومبر 2025 میں وہ خاتون انٹرنیٹ پر خودکشی کے طریقوں پر سرچ کر رہی تھیں۔‘
ذیشان رضا نے بتایا کہ ’میڈیکل ہسٹری کے مطابق مرکزی ملزمہ علینہ انگزائٹی اور ڈپریشن کی مریضہ تھیں اور اس کی تصدیق ان کے فیملی ممبرز نے بھی کی ہے۔‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ’ان تمام واقعات کے تمام شواہد اور پوری ٹریل پولیس کے پاس موجود ہے جو رائیڈر زہر لایا جس وقت ڈلیور ہوا یہ تفصیلات کا ریکارڈ موجود ہے۔‘
’فیس بک پر پوٹاشیئم سائنائٹ زہر ڈلیور کرنے کے لیے رابطہ‘
فائل فوٹو: پوٹاشیم سائنائیڈکی معمولی مقدار بھی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بہت تیزی سے جسم کے اہم افعال کو متاثر کر سکتا ہےبی بی سی سے بات چیت میں ڈی آئی جی انویسٹیگیشن ذیشان رضا نے کہا کہ ’نومبر میں ہی خاتون نے فیس بک پر ایک کیمیکل فروخت کرنے والے شخص سے پوٹاشیئم سائنائٹ ڈلیور کروانے کا کہا جس پر کیمیکل شاپ کےمالک نے کہا کہ ہم امریکہ میں ڈلیور نہیں کرتے۔ جس کے بعد انھوں نے اس شخص سے جون 2026 میں دوبارہ رابطہ کیا۔‘
ذیشان رضا کے مطابق خاتون نے اپنی سہیلی کے گھر جون میں یہ زہر کا پارسل پاکستان میں ڈیلیور کروایا کیونکہ وہ خود اس وقت پاکستان میں موجود نہیں تھیں۔ اس کے بعد وہ جولائی کے آغاز پر خود پاکستان آئیں۔‘
16 جولائی کو خاتون کی اپنی سہیلی سے ملاقات ہوئی جنھیں نہیں پتا تھا کہ پارسل میں کیا ہے۔ اس ملاقات میں انھوں نے وہ پیک شدہ پارسل اپنی سہیلی سے لیا اور 17 کو قتل کا یہ واقعہ پیش آیا۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس ان نتائج پر کچھ دن قبل ہی پہنچ گئی تھی تاہم ہمیں انتظار تھا پنجاب فرانزک سائنس اتھارٹی کی رپورٹ کا کہ جس زہر سے متعلق تفتیش میں پتا چلا ہے اس کی لیب سے بھی تصدیق ہو جائے اور رپورٹ آنے پر ہم یہ تفصیلات سامنے لائے۔‘
یاد رہے کہ پوٹاشیم سائنائیڈ ایک تیزی سے اثر کرنے والا انتہائی زہریلا کیمیائی مادہ ہے جو جسم کے خلیوں میں آکسیجن کے استعمال کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔ پوٹاشیم سائنائیڈکی معمولی مقدار بھی جان کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بہت تیزی سے جسم کے اہم افعال کو متاثر کر سکتا ہے۔
آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر کھلایا: پولیس
جمعے کے روز پریس کانفرنس کے دوران اس واقعے سے متعلق تفصیلات میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن سید ذیشان رضا بتایا کہ ’خاتون کے شوہر ناصر کا پولی گراف ٹیسٹ کیا گیا ۔ دستیاب شواہد، واقعات اور فرانزک رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون نے بچوں کو زہر دینے کے بعد اپنی جان لی۔‘
پولیس کے مطابق کاہنہ میں بچوں کی ہلاکت کے مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث مزید دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں آن لائن کیمیکل فروخت کرنے والی ایک شاپ کا مالک اور ایک رائیڈر شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق خاتون اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ امریکہ سے لاہور آئی تھیں اور ویلنشیا ٹاؤن میں ایک کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ ’ خاتون کا ایک ملزم سے آن لائن رابطہ ہوا جس نے کیمیکل فراہم کرنے کے لیے ایک لاکھ 38 ہزار 540 روپے منی گرام کے ذریعے وصول کیے۔ خاتون نے پاکستان پہنچ کر کیمیکل پر مشتمل پارسل اپنی ایک دوست کے گھر منگوایا۔ 16 جولائی کو خاتون نے اپنی دوست کے ساتھ ایک نجی پیزا شاپ میں کھانا کھایا اور پارسل وصول کیا۔‘
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ’17 جولائی کو خاتون نے آئس کریم میں پوٹاشیم سائنائیڈ ملا کر اپنے 15 سالہ بیٹے ریحان، 11 سالہ بیٹی اریشا اور نو سالہ بیٹے ارسل کو کھلا دیا۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کو آئس کریم کھلانے کے بعد خاتون نے خود بھی وہ آئس کریم کھائی۔
’موبائل فون سے خودکشی سے متعلق مواد‘
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے دعویٰ کیا کہ ’خاتون علینہ نومبر سے خودکشی کے طریقوں کے بارے میں معلومات تلاش کر رہی تھیں۔
انکے مطابق خاتون کے موبائل فون سے خودکشی سے متعلق مضامین بھی ملے ہیں۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کی دوست کو پارسل کے مندرجات کے بارے میں علم نہیں تھا۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا دعویٰ ہے کہ ’ تفتیش میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق علینہ ڈپریشن کا شکار تھیں اور ان کا علاج بھی جاری رہا تھا۔ ‘
پولیس کے مطابق وہ ڈپریشن کی ادویات بھی استعمال کر رہی تھیں۔
ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے مطابق مقدمے کی مکمل تفتیش لاہور پولیس نے کی ہے۔ ان کے مطابق پولیس اور پراسیکیوشن کی شراکت سے ملزمان کے خلاف مضبوط چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا تاکہ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
ایف آئی آرمیں کیا تھا
پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ دفعہ 302 کے تحت درج کیا تھا۔
لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے اس واقعے سے متعلق 17 جولائی کو ایف آئی آر 302 کے تحت درج کی گئی۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق ’ویلنشیاء ٹاؤن میں سکیورٹی سے متعلق اطلاع پا کر پولیس وہاں پہنچی تو وہاں موجود محمد ناصر ڈوگر ولد ناظر حسین نے بتایا کہ ’میرے بچے ریحان عمر 15 سال (2) اریشاء عمر 11 سال اور ارسل عمر 9 سال گھر کے اندر موجود عقبی سائیڈ پر چار دیواری کے اندر گلی اوپن ایریا میں مردہ حالت میں کپڑے میں لپٹے ہوئے پائے گئے ہیں‘
ایف آئی آر کے مطابق محمد ناصر ڈوگر نے بتایا کہ ’میری بیوی علینہ ڈوگر کو پہلے ہی حمیدہ مموریل ہسپتال ویلنشیاء ٹاؤن لے جایا گیا جن کے بارے میں اطلاع آئی کہ وہ بھی فوت ہو گئی ہیں۔‘
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ حالات و واقعات کی روشنی میں ان افراد کو قتل کیا گیا ہے، لہذا قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ ‘
اس واقعے کی ایف آئی آر کے بعد پولیس نے تفتیش شروع کر دی تھی۔