سابق بھارتی کپتان رہانے کو ماہانہ صرف 70 ہزار پینشن، بی سی سی آئی کو شدید تنقید کا سامنا

image

دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ، بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی)، اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے کہ بھارت کے سابق ٹیسٹ کپتان اجنکیا رہانے کو ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد ماہانہ صرف 70,000 بھارتی روپے پینشن ملے گی۔

بھارتی کرکٹ حلقوں میں بہت سے لوگوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ہر سال اربوں روپے کمانے والا مالدار بی سی سی آئی، بھارت کے لیے 25 یا اس سے زیادہ ٹیسٹ کھیلنے والے ریٹائرڈ کرکٹرز کو ماہانہ صرف 70,000 اور 25 سے کم ٹیسٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کو 60,000 روپے پینشن دے رہا ہے۔

ایک بھارتی کرکٹ پوڈکاسٹر کا کہنا تھا کہ ان کرکٹرز کے لیے حالات مزید خراب ہیں جنہیں بھارت کے لیے کھیلنے کا موقع نہیں ملا اور ان کا کیریئر صرف فرسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کرکٹ تک محدود رہا۔

انہوں نے کہا، "ایسے کھلاڑیوں کو پینشن کے طور پر ماہانہ صرف 30 سے 35 ہزار روپے ملتے ہیں۔" اب تک صرف 318 مرد کرکٹرز نے بھارت کے لیے ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں، جن میں رہانے بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ ماہ کے آخر میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔

پوڈکاسٹر نے کہا کہ یہ بات عجیب ہے کہ اتنا کمانے والا بورڈ اپنے ریٹائرڈ ٹیسٹ کھلاڑیوں کے لیے زیادہ پینشن کا بندوبست نہیں کر سکتا، جبکہ اس کی تمام تر کمائی انہی کھلاڑیوں کی بدولت ہے۔

بھارتی کرکٹ میں پینشن کا سلسلہ شروع ہونے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے، کیونکہ بی سی سی آئی کی ویلفیئر اسکیم کے تحت بھارتی ٹیسٹ کرکٹرز تمام اقسام کی مسابقتی کرکٹ (بشمول ڈومیسٹک کرکٹ اور آئی پی ایل) سے باضابطہ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد ماہانہ پینشن حاصل کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو 60 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد زیادہ ماہانہ پینشن ادا کرتا ہے۔

پاکستان میں کیٹیگری A (21 یا اس سے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے والے کھلاڑی) کو 154,000 روپے ماہانہ پینشن ملتی ہے، جبکہ کیٹیگری B (11 سے 20 ٹیسٹ میچز) والے کھلاڑیوں کو 148,000 پاکستانی روپے اور کیٹیگری C (10 یا اس سے کم ٹیسٹ میچز) والے کھلاڑیوں کو 142,000 روپے پینشن دی جاتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US