سوٹ کیس میں بند لاش، سکاٹش خاتون کا مبینہ قتل اور افغان باکسر: ’اس کا دعویٰ ہے کہ وہ باتھ روم میں مردہ ملیں‘

احمد زئی نے قتل سے انکار کیا ہے لیکن لاش منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ ہے کیا؟
Man with boxer belt over shoulder and woman in blue top looking at camera
BBC
راس اور احمد زئی دونوں پناہ گزینوں کے ساتھ کام کر چکے تھے اور یونانی پولیس یہ تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا دونوں ایک دوسرے کو خیراتی شعبے میں کام کے ذریعے جانتے تھے یا نہیں۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یونان میں سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک امدادی کارکن الیزبتھ جین راس کے قتل کے شبے میں گرفتار شخص افغان باکسر 26 سالہ شریف احمد زئی ہیں۔

انھیں 18 جولائی کو ایک 38 سالہ خاتون کی لاش ایتھنز کے علاقے کیپسیلی میں ایک خالی عمارت سے سوٹ کیس میں ملنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ خاتون کے لاپتا ہونے کی اطلاع اس سے کئی روز قبل دی گئی تھی۔

افغانستان میں پیدا ہونے والے اور باکسنگ کے چیمپیئن شریف احمد زئی نوجوانی میں یونان پہنچنے کے بعد وہیں آباد ہو گئے تھے۔

راس اور احمد زئی دونوں پناہ گزینوں کے ساتھ کام کر چکے تھے اور یونانی پولیس یہ تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا دونوں ایک دوسرے کو خیراتی شعبے میں کام کے ذریعے جانتے تھے یا نہیں۔

احمد زئی کو دانستہ قتل، ڈکیتی اور اسلحے سے متعلق جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور بدھ کے روز انھیں ایتھنز کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدالت میں ہونے والی بند کمرہ سماعت کے دوران 26 سالہ احمد زئی کو بتایا گیا کہ انھیں دانستہ قتل، ڈکیتی اور اسلحے سے متعلق جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔

انھوں نے عدالت میں کوئی بیان نہیں دیا اور مقدمے کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ احمد زئی پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

سکاٹ لینڈ کے قانون میں دانستہ قتل کا جرم قتل کے الزام کے برابر ہے۔ احمد زئی کو سماعت کے لیے سیاہ شیشوں والی سرمئی رنگ کی گاڑی میں عدالت لایا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کورونر کی ابتدائی رپورٹ میں موت کی وجہ کا تعین نہیں ہو سکا تھا، تاہم مزید تفصیلی معائنوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ ’واضح طور پر ایک مجرمانہ فعل تھا، غالب امکان ہے کہ خاتون کی موت دم گھٹنے سے واقع ہوئی۔‘

bbc
BBC
احمد زئی کو دانستہ قتل، ڈکیتی اور اسلحے سے متعلق جرائم کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور بدھ کے روز انھیں ایتھنز کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ احمد زئی، جو 15 برس کی عمر میں یتیم ہونے کے بعد افغانستان چھوڑ گئے تھے، یونان میں اپنی امریکی اہلیہ الائنا ہال اور اپنے بچے کے ساتھ رہتے ہیں۔

ان کے والد، جو افغان فوج میں کمانڈر تھے، گولی مار کر ہلاک کر دیے گئے تھے جبکہ ان کی والدہ اور بہن بھائی کابل میں ایک خودکش حملہ آور کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز (آئی ایف آر سی) کی جانب سے شائع کردہ ایک ویڈیو کے مطابق وہ ایران اور ترکی کے راستے یونان پہنچے، جہاں بعد ازاں جزیرہ لیسبوس کے ایک پناہ گزین کیمپ میں آباد ہوئے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ وہیں ان کی اپنی اہلیہ سے ملاقات ہوئی اور انھوں نے مسیح مذہب قبول کیا۔

بعد ازاں اس جوڑے نے دیگر پناہ گزینوں کی مدد کے لیے ’لوو ایوری نیشن ایتھنز‘ نامی خیراتی ادارہ قائم کیا۔

پولیس کے مطابق الیزبتھ جین راس، جو ایڈنبرا سے تعلق رکھتی تھیں اور خاندان اور دوستوں میں لیزا کے نام سے جانی جاتی تھیں، 26 جون کو یونان پہنچی تھیں اور 10 جولائی تک پائرئیس کے علاقے کیرتاسینی میں مقیم رہیں۔

وہ ایتھنز میں قائم ایک پناہ گزین معاونت گروپ کے ساتھ رضاکارانہ خدمات انجام دے رہی تھیں۔

راس نے یونانی دوستوں کو بتایا تھا کہ وہ 15 جولائی کو ’امریکی دوستوں‘ سے ملنے کے لیے کیپسیلی جا رہی ہیں۔

جنوب مشرقی اٹیکا کی پولیس افسران یونین کے صدر جارج کالیاکمانس نے کہا کہ وہ یہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا احمد زئی کے پاس اس اپارٹمنٹ کی چابی تھی جہاں راس مقیم تھیں۔

پولیس یونین نے کہا کہ اس نے ایسی فوٹیج کی تصدیق کر لی ہے جس میں بظاہر احمد زئی ایک سوٹ کیس اٹھائے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس میں غالباً لاش موجود تھی۔

مزید یہ کہا گیا کہ احمد زئی کی اہلیہ کی جانب سے استعمال کی جانے والی ایک لوکیشن شیئرنگ ایپ سے ظاہر ہوا کہ مشتبہ شخص اس سے پہلے کے دنوں میں ریتھمنو سٹریٹ نمبر نائن پر موجود تھا، اس مقام کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ راس کی موت یہاں ہوئی تھی۔

پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے راس کے بینک کارڈ استعمال کر کے رقم نکلوائی۔

جس عمارت سے لاش ملی، وہ اس مقام سے تقریباً 20 منٹ کے فاصلے پر ہے جہاں راس رہ رہی تھیں۔

A map showing the locations of Elisabeth Jane Ross's apartment in Athens, the place where her body was found and the street where Sharif Ahmadzai lived
BBC
نقشہ جس میں ایتھنز میں الیزبتھ جین راس کے اپارٹمنٹ، ان کی لاش ملنے کے مقام اور اس سڑک کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں شریف احمد زئی رہتے تھے۔

بی بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کالیاکمانس نے کہا: ’پولیس تفتیش کار یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا وہ احمد زئی، راس سے پہلے کبھی باکسنگ یا پناہ گزینوں کے ساتھ کام کرنے والی کسی این جی او کے ذریعے ملے تھے، کیونکہ وہ بھی ایک این جی او کے لیے کام کرتی تھیں۔‘

’کیا ماضی میں ان کے راستے ایک دوسرے سے ملے تھے؟ جی ہاں، یہ ممکن ہے۔‘

کالیاکمانس کا کہنا تھا کہ احمد زئی نے قتل سے انکار کیا ہے لیکن لاش منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’احمد زئی کا دعویٰ ہے کہ انھیں وہ باتھ روم میں مردہ ملیں اور وہ خوف زدہ ہو گئے کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ الزام ان پر آ جائے گا۔‘

کالیاکمانس نے کہا کہ پولیس کا خیال ہے کہ مشتبہ شخص متاثرہ خاتون کا بینک کارڈ اور فون لے گیا اور ’یقینی بنایا‘ کہ ان کے خاندان اور دوستوں کو ٹیکسٹ پیغامات بھیجے جائیں تاکہ ’ایسا لگے کہ وہ ابھی بھی زندہ ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس یہ بھی سمجھتی ہے کہ مشتبہ شخص نے متاثرہ خاتون کے بینک کارڈ سے مجموعی طور پر ’تقریباً 10 ہزار یورو‘ رقم نکلوائی۔

کالیاکمانس نے مزید کہا کہ احمد زئی کی اہلیہ کا مبینہ جرم سے کوئی تعلق یا انھیں پیشگی علم نہیں تھا۔

A woman with long brown hair, tied back in a ponytail, smiling at the camera. She is wearing pearl-like earrings and a scoop neck grey top.
Facebook
الیزبتھ جین راس، جنھیں ان کے دوست لیزا کے نام سے جانتے تھے، کی یہ تصویر غالباً 2015 کی ہے۔

’لوگوں کی مدد کرنے کا شوق‘

ایڈنبرا میں پادری پیٹر اینڈرسن نے کہا کہ راس گذشتہ 20 برس سے سٹی آن اے ہِل چرچ کی جماعت کی ایک ’قیمتی‘ رکن تھیں۔

انھوں نے کہا کہ انھیں مشنری کام کا ’بہت شوق‘ تھا اور وہ ’دنیا بھر کے لوگوں کی فکر کرتی تھیں۔‘

سٹی آن اے ہِل کے فیس بک صفحے پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں پادری نے کہا: ’وہ کئی مقامات پر گئی تھیں اور لوگوں کی خدمت کی تھی۔ وہ ایک نہایت اہم لڑکی تھی اور یہ ایک المناک نقصان ہے۔‘

احمدزئی کے گھر کی تلاشی کے دوران افسران کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ایک نقلی پستول اور ایک چاقو برآمد کر کے ضبط کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ راس کے امریکی دوستوں کا سراغ لگانے کی بھی کوشش کر رہی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US