ایسے سال میں جب رپبلکن پارٹی کو انتخابی میدان میں نمایاں مشکلات کا سامنا نظر آ رہا ہے، ڈیموکریٹک پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں ووٹ دینے والوں نے ایک بائیں بازو کے باغی امیدوار پر اعتماد کیا ہے۔

امریکی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے امیدوار کے طور پر مصری نژاد عبدالسید کی کامیابی کے اثرات ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے سینکڑوں میل دور بھی ضرور محسوس کیے ہوں گے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار بن جانے کے بعد ان کا مقاملہ نومبر میں ٹرمپ کے حامی رپبلکن امیدوار مائیک راجرز سے ہو گا جس میں فتحیاب ہونے پر وہ امریکی سینٹ کے پہلے مسلمان رکن بن کر امریکی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔
لیکن اس سے پہلے ہی امریکی سیاست میں ان کا نام مشہور ہو چکا ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ایسے سال میں جب رپبلکن پارٹی کو انتخابی میدان میں نمایاں مشکلات کا سامنا نظر آ رہا ہے، ڈیموکریٹک پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں ووٹ دینے والوں نے ایک بائیں بازو کے باغی امیدوار پر اعتماد کیا ہے۔
اس سے نومبر میں ہونے والے سینیٹ کے انتخاب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ یہی مقابلہ سینیٹ کے مجموعی کنٹرول کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا جس طرح عبدالسید نے پارٹی کے بنیادی حامیوں کو جوش دلایا اور ان کے غصے کو اپنی طرف متوجہ کیا، وہی حکمت عملی عام ووٹروں پر بھی اثر انداز ہو سکے گی؟ اور کیا ایک کھلم کھلا بائیں بازو کا ڈیموکریٹ کسی ایسی ریاست میں کامیاب ہو سکتا ہے جہاں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے؟
پارٹی کی قیادت، جس نے ان کے حریف کی حمایت کی تھی، یقیناً یہی امید کرے گی۔
منگل کے روز پانچ ریاستوں میں آنے والے ابتدائی انتخابی نتائج نے وسط مدتی انتخابات سے تین ماہ قبل امریکی ووٹروں کے مزاج کی ایک جھلک پیش کی ہے۔
نتائج سے حاصل ہونے والے چار اہم نکات یہ ہیں۔
1) ایک نیا بائیں بازو کا جنگجو
منگل کی رات مشی گن میں سینیٹ کے لیے ہونے والے سخت مقابلے کے ڈیموکریٹک ابتدائی انتخاب میں عبدالسید کی کامیابی کوئی بڑی حیرت کی بات نہیں تھی۔ وہ کئی ہفتوں سے کانگریس خاتون ہیلی سٹیونز پر واضح برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔
اگرچہ آخری نتیجہ سرویز کے اندازوں کے مقابلے میں زیادہ قریب رہا، لیکن ان کی کامیابی نے ڈیموکریٹک پارٹی میں کافی بحث چھیڑ دی ہے۔ لیکن اس سے سابق مشی گن محکمۂ صحت کے عہدیدار کی کامیابی کے ان اثرات میں کوئی کمی نہیں آتی جو پوری ڈیموکریٹک پارٹی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔
مصری تارکِ وطن کے بیٹے عبدالسید نے بائیں بازو کے منشور پر انتخاب لڑا۔
انھیں سینیٹر برنی سینڈرز، سینیٹر الزبتھ وارن اور کانگریس خاتون الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز جیسے نمایاں لبرل رہنماؤں کی حمایت حاصل تھی۔
ہیلی سٹیونز کو واشنگٹن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت کی حمایت حاصل تھی۔
وہ مشی گن میں ایک تجربہ کار منتخب سیاست دان بھی تھیں اور ان کے پاس انتخابی مہم کے لیے بہت زیادہ مالی وسائل تھے۔ انھیں امریکی اسرائیل عوامی امور کمیٹی (ایپیک) سے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر بھی ملے تھے۔ اس کے علاوہ، بیرونی حمایتی گروہوں نے بھی عبدالسید کے مقابلے میں تقریباً نو گنا زیادہ ان کی حمایت کی۔
لیکن یہ سب ان کے کام نہ آ سکا۔
مناظروں اور انتخابی مہم کے دوران عبدالسید زیادہ مؤثر امیدوار ثابت ہوئے۔ ڈیموکریٹک ووٹرز نے ان کی پالیسیوں میں دلچسپی دکھائی، جن میں سرکاری صحت بیمہ، ادویات کی قیمتیں کم کرنا، امیر لوگوں پر زیادہ ٹیکس لگانا اور انتخابی فنڈنگ کے نظام میں اصلاحات شامل ہیں۔
ان کی انتخابی مہم کا مشہور نعرہ تھا: ’سیاست سے پیسہ باہر نکالو، اور لوگوں کی جیب میں پیسہ ڈالو۔‘
یہ نعرہ اس انتخابی دور میں بائیں بازو کے کئی امیدواروں کی مہم کا اہم حصہ رہا ہے۔
ڈیٹرائٹ میں نوجوان حامی عبدالسید کے حق میں ایک پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہیں عام انتخابات میں عبدالسید کا مقابلہ سابق رپبلکن رکنِ کانگریس مائیک راجرز سے ہوگا، جو بغیر کسی حریف کے اپنی پارٹی کے امیدوار بنے ہیں۔ یہ شاید اس بات کا سب سے اہم امتحان ہوگا کہ آیا ایک بائیں بازو کا امیدوار واقعی کسی ایسی ریاست میں عام انتخاب جیت سکتا ہے جہاں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔
چونکہ عبدالسید نے ابتدائی انتخاب نسبتاً کم فرق سے جیتا ہے، اس لیے نومبر کے انتخابات سے پہلے انھیں اپنی پارٹی کو متحد کرنے کے لیے کافی محنت کرنا ہوگی۔
عبدالسید کو تعلیم یافتہ اور لبرل ووٹروں کی اچھی حمایت ملی، لیکن اب انھیں کم آمدنی والے ان ووٹروں کو بھی اپنی طرف لانا ہوگا جنہوں نے ڈیٹرائٹ اور دیہی علاقوں میں ہیلی سٹیونز کی حمایت کی تھی۔ انتخاب سے پہلے کیے گئے سرویز ان ووٹروں کی رائے کو پوری طرح ظاہر نہیں کر سکے تھے۔
اگر عبدالسید مائیک راجرز سے ہار جاتے ہیں تو یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے بڑا دھچکا ہوگا، کیونکہ رپبلکن پارٹی 1994 کے بعد سے مشی گن میں کوئی سینیٹ انتخاب نہیں جیت سکی۔
لیکن اگر عبدالسید کامیاب ہو جاتے ہیں تو بائیں بازو کے ڈیموکریٹس کو یہ دلیل مل سکتی ہے کہ 2028 کے صدارتی انتخاب میں ایک بائیں بازو کا امیدوار ان روایتی اور معتدل امیدواروں سے زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے جنہیں پارٹی نے حالیہ انتخابات میں نامزد کیا تھا۔
مشی گن ڈیموکریٹک صدارتی ابتدائی انتخابات میں اہم ریاستوں میں شمار ہوتی ہے، اس لیے پارٹی کا آئندہ صدارتی امیدوار کون ہوگا، اس فیصلے میں بھی اس ریاست کا اثر بہت زیادہ ہوگا۔
2) اسرائیل کے حامی بعض ڈیموکریٹس کے لیے رات اچھی نہیں رہی
ہیلی سٹیونز ان امیدواروں میں سب سے نمایاں تھیں جنہیں ایپیک (AIPAC) کی حمایت حاصل تھی، لیکن وہ منگل کی رات انتخاب ہار گئیں۔ تاہم دوسرے کم توجہ حاصل کرنے والے مقابلوں میں نتائج مختلف رہے، جہاں کچھ امیدوار جیتے اور کچھ ہار گئے۔
مشی گن میں ایک اور مقابلے میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ ڈوناون میک کنی نے موجودہ رکنِ کانگریس شری تھینیڈر کو شکست دی۔ تھینیڈر امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حمایت کے کھلے حامی سمجھے جاتے تھے۔
اس شکست کے بعد تھنیڈر بھی ان موجودہ ڈیموکریٹ اراکینِ کانگریس میں شامل ہو گئے ہیں جو اس بار پارٹی کے ابتدائی انتخابات میں اپنی نشست برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔
میک کنی اور عبدالسید نے ایک دوسرے کی انتخابی مہم کی حمایت کی ولیم لارنس، جو اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت فوراً روکنے کا مطالبہ کرتے ہیں، نے مشی گن کے ایک کانگریسی حلقے میں دو معتدل ڈیموکریٹ امیدواروں کو شکست دے دی۔ یہ حلقہ نومبر کے انتخابات میں اہم مقابلوں میں سے ایک سمجھا جا رہا ہے۔
اگر مشی گن، نیویارک اور کولوراڈو کے حالیہ انتخابات سے یہ تاثر ملا کہ کچھ ڈیموکریٹ ووٹر اسرائیل کے حامی سیاست دانوں سے دور ہو رہے ہیں، تو میسوری اور واشنگٹن میں صورتحال مختلف رہی۔
واشنگٹن ریاست میں رکنِ کانگریس میری گلوسنکیمپ پیریز، جو اسرائیل کے لیے فوجی امداد کی حمایت کرتی ہیں، نے بائیں بازو کے ایک امیدوار کو آسانی سے شکست دے دی۔ وہ ان چند ڈیموکریٹ اراکینِ کانگریس میں شامل ہیں جن کے حلقوں میں 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ہوئے تھے، اس لیے نومبر میں رپبلکن ان کے خلاف بھرپور مہم چلا سکتے ہیں۔
ادھر میسوری کے ایک مضبوط لبرل حلقے میں ویسلی بیل نے کوری بش کی دوبارہ کامیابی کی کوشش ناکام بنا دی۔
کوری بش بائیں بازو کی ڈیموکریٹ کانگریس خواتین کے مشہور گروپ ’سکواڈ‘ کی بانی اراکین میں شامل تھیں۔ ویسلی بیل نے دو سال پہلے بھی انھیں شکست دی تھی، جس کی ایک وجہ اسرائیل کے بارے میں ان کے تنقیدی موقف کو بھی سمجھا جاتا ہے
3) مڈویسٹ میں ووٹروں نے رپبلکن تجاویز مسترد کر دیں
اگرچہ منگل کی رات زیادہ تر مقابلے سیاسی جماعتوں کے اندر ہونے والے ابتدائی انتخابات تھے، لیکن دو اہم عوامی ووٹ ایسے بھی تھے جن سے اشارہ ملتا ہے کہ مجموعی طور پر ووٹروں کا رجحان ڈیموکریٹس کی طرف ہو سکتا ہے۔
میسوری میں ووٹروں نے بھاری اکثریت سے ایک ایسی تجویز مسترد کر دی جس کے تحت ریاستی آئین میں عوامی حمایت سے ترمیم کرنا زیادہ مشکل بنا دیا جاتا۔
حالیہ برسوں میں عوام کی جانب سے لائی جانے والی ایسی آئینی تجاویز کے ذریعے ڈیموکریٹس ان معاملات کو آگے بڑھانے میں کامیاب ہوئے ہیں جو رپبلکن اکثریت والی ریاستی اسمبلی سے منظور نہیں ہو سکتے تھے۔ ان میں اسقاطِ حمل کے حق کا تحفظ اور کم از کم اجرت میں اضافہ جیسے اقدامات شامل ہیں۔
دوسری جانب کنساس میں ووٹروں نے ایک اور تجویز کو بھی مسترد کر دیا، جس کے تحت ریاست کی سپریم کورٹ کے ججوں کو انتخاب لڑنا پڑتا۔ اس وقت ان ججوں کا تقرر گورنر اور وکلا کی ایک کمیٹی کرتی ہے۔
2024 میں کنساس کی اعلیٰ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اسقاطِ حمل کا حق ریاستی آئین کے تحت محفوظ ہے۔
رپبلکن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ریاست کے ووٹروں کی خواہشات کے مطابق نہیں تھا۔
یہ دونوں تجاویز ریاستی رپبلکن رہنماؤں کی حمایت سے پیش کی گئی تھیں، لیکن دونوں ہی معاملات میں ووٹروں نے انھیں واضح طور پر مسترد کر دیا۔
4) ٹرمپ کی حمایت اب بھی (زیادہ تر مواقع پر) اہمیت رکھتی ہے
منگل کی رات مجموعی طور پر ان رپبلکن امیدواروں کے لیے اچھی رہی جنہیں ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی، اور ان میں سے کئی نے اپنے ابتدائی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔
جان جیمز نے مشی گن میں گورنر کے لیے رپبلکن پارٹی کی نامزدگی جیت لی، حالانکہ ان کے دولت مند حریف نے انتخابی مہم پر ان سے کہیں زیادہ خرچ کیا تھا۔ ٹرمپ نے نہ صرف جان جیمز کی حمایت کی بلکہ گذشتہ ہفتے ان کے ساتھ ایک جلسے میں بھی شریک ہوئے تھے۔
کنساس میں بھی رپبلکن ووٹروں نے گورنر کے لیے ٹرمپ کے پسندیدہ امیدوار کا انتخاب کیا، حالانکہ کئی امیدوار میدان میں موجود تھے۔ اسی طرح واشنگٹن ریاست میں رپبلکن رکنِ کانگریس ڈین نیوہاؤس کی خالی ہونے والی نشست کے لیے ہونے والے مقابلے میں بھی ٹرمپ کی حمایت یافتہ امیدوار امانڈا میک کنی پہلے نمبر پر رہیں۔
71 سالہ ڈین نیوہاؤس، جو سیاست سے ریٹائر ہو رہے ہیں، اس لیے نمایاں تھے کہ وہ ان آخری دو رپبلکن اراکینِ کانگریس میں شامل تھے جنہوں نے 6 جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر حملے کے بعد ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
چونکہ یہ حلقہ روایتی طور پر رپبلکن جماعت کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، اس لیے نومبر میں امانڈا میک کنی کے اپنے ڈیموکریٹ حریف کو شکست دینے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو ایوانِ نمائندگان میں رپبلکن پارٹی مزید دائیں بازو کی جانب جا سکتی ہے۔ یہ بھی اس بات کا ایک اور اشارہ ہے کہ نیوہاؤس جیسے روایتی رپبلکن سیاست دان اب تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔
تاہم ٹرمپ ہر جگہ اپنی مرضی کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر سکے۔
مشی گن میں تھامس اسمتھ نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار امیر حسن کو شکست دے دی۔ امیر حسن سابق قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسر تھے اور وہ بھی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ کے ساتھ اسٹیج پر نظر آئے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تھامس سمتھ گذشتہ ماہ انتخابی دوڑ سے دستبردار ہو گئے تھے، لیکن ان کا نام بیلٹ پیپر پر موجود رہا اور وہ کامیاب ہو گئے۔