قومی ٹیم کے سابق کپتان اظہر علی نے پاکستان کی حالیہ کارکردگی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹیم کی خراب کارکردگی کا ذمہ دار کسی کپتان یا کوچ کو نہیں ٹھہرائیں گے کیونکہ پاکستان میں اکثر ناکامی کا ملبہ کپتان اور کوچ پر ڈال دیا جاتا ہے۔
اظہر علی نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں جن بنیادی چیزوں پر کام ہونا چاہیے تھا ان پر توجہ نہیں دی گئی جس کے باعث کارکردگی متاثر ہوئی۔ ٹیم کی فوری بہتری کے لیے تبدیلیاں ضرور کی جائیں تاہم مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے چار سے پانچ سال کی منصوبہ بندی ضروری ہے۔
انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز ڈرا ہونے کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو پہلا ٹیسٹ بھی جیتنا چاہیے تھا تاہم دوسرے میچ میں ٹیم نے اچھی کارکردگی دکھائی۔
سابق کپتان نے عبداللہ شفیق کی کم بیک کو سراہا اور کہا کہ بابر اعظم بھی اچھی فارم میں نظر آ رہے ہیں بدقسمتی سے وہ سنچری مکمل نہ کر سکے۔ ان کے مطابق موجودہ انداز میں کھیلتے ہوئے بابر میں پرانا بابر اعظم نظر آ رہا ہے۔
اظہر علی نے اسپنرز کی کارکردگی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ علی عثمان نے دونوں ٹیسٹ میچز میں اچھی بولنگ کی جبکہ ساجد خان نے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انگلینڈ میں ہمیشہ اچھی کرکٹ کھیلی ہے آئندہ سیریز ایک چیلنج ضرور ہوگی تاہم امید ہے قومی ٹیم ماضی کی طرح انگلینڈ میں بھی اچھی کارکردگی دکھائے گی۔