ایک بہت بڑی شے مغرب سے مشرق کی جانب اس علاقے کے اوپر حرکت کرتی دکھائی دی جس کی شکل ایک مثلث جیسی تھی۔ یہ شے خاموشی سے مستقل رفتار اور بلندی پر حرکت کر رہی تھی، غالباً تقریباً 150 ناٹ کی رفتار سے اور اس پر کوئی روشنی نظر نہیں آ رہی تھی۔
امریکی محکمۂ دفاع، پینٹاگون نے نامعلوم اڑنے والی اشیا (یو ایف اوز) سے متعلق نئی دستاویزات جاری کی ہیں جن میں ایک ویڈیو بھی شامل ہے جس میں بگرام ایئر بیس کے اوپر ایک نامعلوم شے دکھائی دیتی ہے۔
ان دستاویزات میں ایک فوجی پائلٹ کا بیان بھی شامل ہے جس نے 2002 میں افغانستان کے اوپر ایک بڑی اور پراسرار تکون نما شے دیکھنے کی اطلاع دی تھی۔ ایک ایسی شے جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے ’ستاروں کی روشنی کو ڈھانپ لیا تھا۔‘
مذکورہ پائلٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 4:30 بجے اُنھوں نے محسوس کیا کہ بگرام کے اوپر آسمان میں ستارے غائب ہونا شروع ہو رہے ہیں۔
ایک بہت بڑی شے مغرب سے مشرق کی جانب اس علاقے کے اوپر حرکت کرتی دکھائی دی جس کی شکل ایک مثلث جیسی تھی۔ یہ شے خاموشی سے مستقل رفتار اور بلندی پر حرکت کر رہی تھی، غالباً تقریباً 150 ناٹ کی رفتار سے اور اس پر کوئی روشنی نظر نہیں آ رہی تھی۔
پینٹاگون نے جمعہ (7 اگست) کو نامعلوم اڑنے والی اشیا جنھیں اب ’نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ (یو اے پی) بھی کہا جاتا ہے سے متعلق دستاویزات اور تصاویر کا ایک نیا مجموعہ جاری کیا ہے۔
بی بی سی کے امریکی نیوز پارٹنر سی بی سی کے مطابق پینٹاگون کی یو ایف او ویب سائٹ پر شائع کی گئی ان 41 نئی دستاویزات میں پینٹاگون، فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی)، سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے)، محکمۂ خارجہ اور ایگزیکٹو آفس آف دی پریزیڈنٹ کی دستاویزات، تصاویر اور ویڈیوز کا ایک مجموعہ شامل ہے۔
ان میں سب سے پرانی دستاویز 1950 کی ہے جبکہ سب سے نئی 2026 کی ہے۔
رواں برس کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر، جس میں فوج اور دیگر امریکی سرکاری اداروں کو نامعلوم اڑنے والی اشیا (یو اے پیز) سے متعلق مزید دستاویزات منظرِ عام پر لانے کی ہدایت کی گئی تھی، کے بعد یہ دستاویزات جاری کرنے کا پانچواں مرحلہ ہے۔
نئی دستاویزات میں کیا ہے؟
پینٹاگون کی ویب سائٹ کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک نامعلوم غیر معمولی شہ سے متعلق رپورٹ جمع کرائی ہے۔
اس رپورٹ میں ایک منٹ اور 39 سیکنڈ کی ویڈیو شامل ہے، جو امریکی فوجی پلیٹ فارم پر نصب الیکٹرو آپٹیکل اور انفرا ریڈ سینسرز کے ذریعے ریکارڈ کی گئی تھی۔
ویڈیو میں سینسر پس منظر میں بائیں سے دائیں حرکت کرتا دکھائی دیتا ہے تاکہ تصویر میں تضاد والے حصے کا تعاقب کیا جا سکے اور اسے عمومی طور پر فریم کے وسط میں برقرار رکھا جا سکے۔ ریکارڈنگ کے دوران سینسر کے شوٹنگ موڈ اور زوم کی سطح میں کئی مرتبہ تبدیلی آتی ہے۔
ان دستاویزات کا بڑا حصہ کم معیار اور غیر واضح ویڈیوز پر مشتمل ہے، جو حالیہ برسوں میں یو ایف او سے متعلق انکشافات کا نمایاں حصہ رہی ہیں۔
یہ تصاویر فوجی سینسرز اور کیمروں کے ذریعے ریکارڈ کی گئی تھیں۔
سینٹکام کی جانب سے فراہم کردہ ایک ویڈیو میں 2025 میں مشرقِ وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر فوجی طیارے سے حاصل کی گئی فوٹیج دکھائی گئی ہے۔ ویڈیو میں ایک شے نظر آتی ہے جو بظاہر کیمرے کے پاس سے تیزی سے گزرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
اس واقعے کی نوعیت اب بھی غیر واضح ہے اور اب تک اس کی کوئی حتمی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
نئی جاری کی گئی چھ دیگر ویڈیوز ایک ہی واقعے کے مختلف مناظر دکھاتی ہیں، جب امریکی سپیشل آپریشنز فورسز نے ستمبر 2021 میں خلیجِ عمان کے اوپر ایک نامعلوم شے دیکھی تھی۔
یہ ویڈیوز دراصل ایک AC-130J جنگی طیارے کے اندر موجود سکرینوں کی موبائل فون کے ذریعے بنائی گئی ریکارڈنگز ہیں جن میں طیارے کے انفرا ریڈ سینسرز اور دیگر شناختی نظاموں کے ذریعے ریکارڈ کی گئی اشیا دکھائی دیتی ہیں۔
ویڈیوز کے ساتھ جاری کی گئی ایک انٹیلی جنس رپورٹ اس واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، فوجی طیارے میں موجود اہلکاروں نے خلیجِ عمان میں ایک لائیو فائر مشق کے دوران تقریباً 25 نامعلوم مظاہر کا مشاہدہ کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے: ’یہ اشیا ٹھنڈے گول کرّوں کی مانند دکھائی دیتی تھیں، جو مختلف فارمیشنز میں پرواز کر رہی تھیں اور کم بلندی پر 250 سے 1,300 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے جارحانہ انداز کی حرکات انجام دے رہی تھیں۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر کئی دہائیوں پر محیط ان دستاویزات کی خفیہ حیثیت ختم کر کے انھیں رواں برس مئی میں آن لائن شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔
رواں برس صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’عوام کی غیر معمولی دلچسپی‘ کے پیشِ نظر یہ ریکارڈ جاری کریں گے۔
حالیہ برسوں میں امریکہ میں خلا میں ممکنہ زندگی کے آثار کے حوالے سے عوامی دلچسپی میں دوبارہ اضافہ دیکھا گیا۔ 2022 میں کانگریس نے 50 برس بعد پہلی مرتبہ یو ایف اوز سے متعلق سماعتیں کیں جبکہ امریکی فوج نے اس معاملے میں مزید شفافیت لانے کا وعدہ کیا۔

فضا میں روشنی سے نمودار ہوتی اشیا
پینٹاگون کی جانب سے جاری دستاویز مِں درجنوں افراد کی جانب سے نامعلوم فضائی مظاہر دیکھے جانے کے دعوے بھی شامل ہیں۔
1957 میں ایک شخص نے امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو بتایا تھا کہ انھوں نے بڑی سی طشتری کی شکل کی ایک شے کو زمین سے اوپر اٹھتے دیکھا تھا۔
ان دستاویزات میں ستمبراور اکتوبر 2023 میں امریکی شہریوں کی جانب سے تیز روشنی میں سے دھاتی شے کو فضا میں اڑتے دیکھنے کے دعوے بھی شامل ہیں۔
ان فائلز میں مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوج کی جانب سے 2022 میں فلمائی گئی ویڈیوز بھی شامل ہیں۔
عراق، شام اور متحدہ عرب امارات میں بنائی گئی ان فوٹیجز میں دکھائی دینے والے مناظر کو پینٹاگون کی ویب سائٹ پر ’غیر حل شدہ نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ قرار دیا گیا۔
2022 میں مشرقِ وسطیٰ میں کسی نامعلوم مقام پر ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو میں بیضوی شکل کی ایک شے کو بائیں سے دائیں جانب انتہائی تیزی سے حرکت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ اس کے ساتھ موجود رپورٹ میں اسے ’ممکنہ میزائل‘ قرار دیا گیا۔
سابق امریکی صدر براک اوباما کے ایک بیان نے اس موضوع میں مزید دلچسپی پیدا کر دی تھی۔ رواں سال فروری میں دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ خلائی مخلوقات ’حقیقی ہیں مگر میں نے انھیں نہیں دیکھا۔‘
بعد ازاں براک اوباما نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شماریاتی اعتبار سے کائنات میں کہیں نہ کہیں زندگی موجود ہونے کے امکانات ضرور ہیں تاہم اپنی دورِ صدارت کے دوران انھیں اس حوالے سے ’کوئی شواہد نظر نہیں آئے۔‘
اُس ہی ماہ کے آخر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ وہ ’خلائی مخلوقات اور ماورائے ارضی حیات، نامعلوم فضائی مظاہر (یو اے پی) اور نامعلوم اُڑن اشیا (یو ایف اوز)‘ سے متعلق فائلوں تک عوام کو رسائی دیں۔