وعدوں سے مایوسی تک: افغانستان کے شیعہ علما طالبان حکام سے ’سینے میں خنجر گھونپنے‘ کا گِلہ کیوں کر رہے ہیں؟

افغانستان میں شیعہ آبادی کی درست تعداد معلوم نہیں ہے، تاہم مختلف اندازوں کے مطابق شیعہ شہری ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہیں۔ شیعہ برادری کے مطابق انھیں ملک میں طالبان حکام کی جانب سے پابندیوں کا سامنا ہے۔ افغانستان میں طالبان کنٹرول کے پانچ سال مکمل ہونے پر شیعہ برداری کے حالات کے حوالے سے بی بی سی کی خصوصی رپورٹ۔
Afghanistan, Shia Community
Getty Images
افغانستان میں شیعہ آبادی کی درست تعداد معلوم نہیں ہے، تاہم مختلف اندازوں کے مطابق شیعہ شہری ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہیں

اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے قبضے سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل، اُس وقت کے طالبان کے ’دعوت و ارشاد‘ کمیشن کے سربراہ امیر خان متقی نے صوبہ دایکندی کے شیعہ اکثریتی ضلع ’کجران‘ کا دورہ کیا اور وہاں مقامی رہائشیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان کی امارت اسلامی کی امتیازی پالیسی نہیں ہے، جس طرح وہ سُنی مسلمانوں کا احترام اور عزت کرتی ہے، اِسی طرح شیعہ مسلمانوں کا بھی احترام اور عزت کرتی ہے۔‘

مگر افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے نو ماہ بعد (فروری 2022 میں) کابل میں افغان شیعہ علما کونسل کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کو ایک ایسے واقعے کا سامنا کرنا پڑا جس کی انھیں توقع نہیں تھی۔

کونسل کا ایک مشاورتی اجلاس جاری جب طالبان اہلکاروں نے اُس میں مداخلت کی۔ وہاں آویزاں مذہبی تحریریں زمین پر پھینک دی گئیں اور معاملات میں خلل ڈالا گیا۔

اجلاس میں شریک ایک شخص نے موقع کی ویڈیو بناتے ہوئے کہا کہ ’اسلامی امارت کے اہلکار اندر داخل ہوئے اور انھوں نے قرآنِ کریم کی آیات کو روند ڈالا۔‘

اگرچہ طالبان حکام نے اس واقعے کی تحقیقات کروانے کا وعدہ کیا تھا مگر اُن کی جانب کبھی یہ نہیں بتایا گیا کہ اس نوعیت کی کارروائی کیوں کی گئی تھی۔

اس ابتدائی واقعے کے بعد ایسے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن کی بنیاد پر افغانستان کی شیعہ برادری نے طالبان حکومت کے طرزِ عمل اور پالیسیوں پر تنقید کی۔

دوسری جانب طالبان حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ شیعہ برادری کو اُن کی مذہبی رسوم و عبادات کی ادائیگی کی مکمل آزادی حاصل ہے اور اُن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی ایسی پالیسی پر عمل نہیں کیا جا رہا جس سے کسی طبقے میں محرومی کا احساس پیدا ہو۔

افغانستان میں شیعہ برادری کے رہنما آیت اللہ واعظ زادہ بہسودی کا کہنا ہے کہ شیعہ برادری پر مختلف نوعیت کے دباؤ، بالخصوص مذہبی دباؤ، موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم پر بہت زیادہ دباؤ ہے، خاص طور پر مذہبی دباؤ، جو واقعی ناقابلِ برداشت ہے۔ تعلیمی نصاب سے فقہ جعفریہ کو نکال دیا گیا ہے۔ اگر ہم اسے کسی حد تک برداشت بھی کر لیں تو ہم نے کم از کم یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں مذہبی آزادی دی جائے تاکہ ہم اپنی فقہ پر آزادانہ طور پر عمل کر سکیں۔ یہ ہمارا مسلمہ اور فطری حق ہے۔ تاہم یہ آزادی بھی ہمیں نہیں دی جا رہی۔‘

آیت اللہ واعظ زادہ بہسودی کے مطابق، شیعہ برادری کو درپیش خدشات میں صرف تعلیمی نصاب سے فقہ جعفریہ کا اخراج ہی شامل نہیں، بلکہ اُن کے بقول اپنے مذہبی عقائد اور فقہی تعلیمات پر آزادانہ عمل کی اجازت نہ ملنا بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ اپنی فقہی روایات کے مطابق مذہبی فرائض کی ادائیگی اور مذہبی آزادی کا حصول شیعہ شہریوں کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں یہ حق بھی پوری طرح فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔

Afghanistan, Shia
BBC
شیعہ علما کونسل کے مشاورتی اجلاس کے دوران طالبان اہلکاروں نے مداخلت کی اور وہاں آویزاں مذہبی تحریریں زمین پر پھینک دی گئیں

افغان آبادی کا 15 فیصد: شیعہ آبادی کے اہم مطالبات کیا ہیں؟

افغانستان میں شیعہ آبادی کی درست تعداد معلوم نہیں ہے، تاہم مختلف اندازوں کے مطابق شیعہ شہری ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 15 فیصد ہیں۔

افغانستان کی شیعہ برادری کے کم از کم چار بنیادی مطالبات ہیں:

  • مذہبِ تشیع کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے
  • عدالتوں میں قانونِ احوالِ شخصیہ (پرسنل سٹیٹس لا) کا نفاذ کیا جائے
  • شیعہ اکثریتی صوبوں کے سکولوں اور جامعات میں فقہ جعفریہ کی تعلیم دی جائے
  • حکومتی ڈھانچے اور ریاستی اداروں میں شیعہ برادری کی نمائندگی یقینی بنائی جائے

شیعہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ مطالبات افغانستان کے سابق جمہوری نظام کے دوران عملی طور پر تسلیم کیے گئے تھے اور ان پر مختلف سطحوں پر عملدرآمد بھی کیا جاتا تھا۔

اُن کے مطابق مذہبِ تشیع کی قانونی حیثیت، عدالتوں میں شیعہ فقہ سے متعلق قوانین کا اطلاق، تعلیمی اداروں میں فقہ جعفریہ کی تدریس، اور سرکاری اداروں میں شیعہ نمائندگی ایسے حقوق تھے جو جمہوری دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھے۔

تاہم شیعہ برادری کے بعض رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان اُمور کے حوالے سے خدشات اور تحفظات میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ طالبان حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ تمام افغان شہریوں کو بلاامتیاز اپنے مذہبی عقائد اور عبادات پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔

In this photograph taken on September 25, 2017, an Afghan young Shiite boy displays religious flags ahead of Ashura along a roadside in Kabul.
Getty Images

علما کونسلوں سے شیعہ علما کا اخراج

طالبان حکومت کے ابتدائی دور میں طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے صوبائی علما کونسلوں کے قیام کا حکم دیا تھا۔

اس کے بعد صوبہ دایکندی کے علما، جن میں شیعہ اور سنی دونوں مکاتبِ فکر کے علما شامل تھے، کے درمیان صوبائی علما کونسل کی رکنیت کے لیے انتخابات منعقد کیے گئے تھے۔

منصوبے کے مطابق صوبائی علما کونسل کے 40 ارکان میں سے 25 شیعہ علما اور 15 سنی علما شامل کیے جانے تھے۔ اس مقصد کے لیے شیعہ اور سنی مذہبی رہنماؤں پر مشتمل مجوزہ ارکان کی ایک فہرست طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ کو پیش کی گئی۔ تاہم، ہیبت اللہ اخوندزادہ نے اس فہرست سے شیعہ علما کے نام خارج کر دیے۔

اسی نوعیت کی صورتحال افغانستان کے دیگر ایسے صوبوں میں بھی دیکھنے میں آئی جہاں شیعہ برادری موجود ہے۔

بعدازاں جب ہیبت اللہ اخوندزادہ نے بامیان، دایکندی، سرپل، میدان وردک اور غور کے صوبائی علما کونسلوں کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا تو ان فہرستوں میں ان صوبوں کے شیعہ علما کے نام شامل نہیں تھے، حالانکہ یہ صوبے یا تو شیعہ اکثریتی آبادی رکھتے ہیں یا وہاں شیعہ برادری کی نمایاں موجودگی ہے۔

اس معاملے پر طالبان حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحت یا تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا ہے۔

شیعہ برادری کے بعض نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صوبائی علما کونسلوں میں شیعہ علما کی عدم شمولیت اُن کے سیاسی اور مذہبی نمائندگی سے متعلق خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے، جبکہ طالبان حکام نے اب تک ان اعتراضات کے حوالے سے کوئی عوامی تشریح پیش نہیں کی۔

afghanistan, Shai
Getty Images
سکیورٹی پر معمور طالبان اہلکار شیعہ جلوس کے دوران

متنازع بیانات: ’افغانستان میں سب لوگ فقہ حنفی کی پیروی کرتے ہیں‘

ماضی میں طالبان حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کی جانب سے بعض ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جنھوں نے افغانستان کی شیعہ برادری میں تشویش پیدا کی ہے۔

مثال کے طور پر افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے کہا تھا کہ ’ہمارے افغانستان میں مطلق اکثریت، بلکہ چند گِنے چُنے افراد کو چھوڑ کر، سب کے سب امامِ اعظم حضرت امام ابو حنیفہ کی فقہہ کے پیروکار ہیں۔‘

اسی طرح رواں سال طالبان حکومت کے تعلیم کے وزیرِ ندا محمد ندیم نے کہا کہ ’افغانستان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ افغانستان میں سب لوگ ایک ہی مذہب، یعنی فقہ حنفی، کی پیروی کرتے ہیں۔‘

ندا محمد ندیم اس سے تین سال قبل بھی اسی نوعیت کا بیان دے چکے ہیں۔

انھوں نے اُس وقت کہا تھا کہ ’اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ افغانستان کو اپنے دشمنوں پر فتح عطا کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں فرقے نہیں ہیں، صرف ایک ہی مسلک ہے، یعنی امام ابو حنیفہ کا مسلک۔ تمام افغان ایک ہی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔‘

افغان شیعہ علما کونسل کے مطابق شیعہ برادری افغانستان کے 22 صوبوں میں موجود ہے۔ شیعہ رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر ریاستی سطح پر صرف ایک فقہی نقطۂ نظر کو بنیاد بنایا گیا تو اس کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کی مذہبی آزادیوں پر مزید پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔

اسی تناظر میں وزارتِ اعلیٰ تعلیم کے قواعد و ضوابط بھی تنقید کی زد میں آئے ہیں۔ ان ضوابط کے تحت شیعہ طلبہ کو یونیورسٹی میں داخلے کے وقت فقہ حنفی کی پیروی سے متعلق ایک عہد نامے پر دستخط کرنے کی شرط کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے آیت اللہ واعظ زادہ بہسودی نے کہا کہ ’جامعات میں یہ شرط رکھی جا رہی ہے کہ طالبعلم یا تو حنفی بن جائے یا پھر یونیورسٹی کی تعلیم سے ہی دستبردار ہو جائے۔ یہ مناسب بات نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص فقہ جعفریہ کا پیروکار ہے اور ساتھ ہی طالبعلم بھی ہے تو اِس میں کیا قباحت ہے؟‘

اسی طرح آیت اللہ حجت نے بھی اس پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کیا بات ہے کہ آپ نے ایک شق شامل کر دی ہے جس کے تحت یونیورسٹی میں داخل ہونے والا طالبعلم یہ تحریری عہد کرے کہ وہ فقہ حنفی کے مطابق عمل کرے گا۔ کیا آپ کسی حنفی شخص سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ لکھ کر دے اور دستخط کرے کہ وہ فقہ جعفریہ کے مطابق عمل کرے گا؟ جس طرح وہ ایسا نہیں کر سکتا، اسی طرح ہم بھی نہیں کر سکتے۔‘

شیعہ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات اور بیانات اُن کے اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ ملک میں مذہبی تنوع کو تسلیم کرنے کے بجائے ایک ہی فقہی مکتبِ فکر کو فوقیت دی جا رہی ہے، جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ افغانستان کے تمام شہریوں کو اپنے مذہبی عقائد اور عبادات پر عمل کی آزادی حاصل ہے۔

Afghantan, Shai
Getty Images

محرم کی عزاداری، مذہبی پابندیاں اور طالبان حکومت پر شیعہ علما کی تنقید

طالبان کے کابل پر قبضے کے ابتدائی دنوں میں ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں طالبان کے مسلح اہلکاروں کو محرم الحرام کے سوگ میں لگائے گئے عزاداری کے جھنڈے اتارتے ہوئے دیکھا گیا۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے پشتو زبان میں کہا کہ ’شیعہ لوگوں کو ختم کرو، یہ قانون توڑنے والے ہیں۔‘

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں شیعہ عزاداری کی علامات اور علم یا جھنڈے اُتارے جانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

طالبان حکومت نے ہدایت جاری کی ہے کہ محرم کی مجالس اور عزاداری کی تقریبات صرف مساجد اور امام بارگاہوں کے اندر منعقد کی جائیں اور عوامی مقامات پر نصب سوگ کی علامات اور جھنڈے ہٹا دیے جائیں۔

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شیعہ برادری کو داعش کے ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں اور اِن کا مقصد سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔

سابق جمہوری دورِ حکومت میں، جب افغان سکیورٹی فورسز ملک بھر میں طالبان کے خلاف وسیع پیمانے پر برسرِ پیکار تھیں، داعش نے شیعہ برادری کو متعدد مہلک حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ تاہم طالبان حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد شیعہ آبادی کے خلاف داعش کے حملوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

اس کے باوجود شیعہ برادری کے بعض افراد کا مؤقف ہے کہ حالیہ برسوں میں عائد کی جانے والی پابندیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور ان کا مقصد صرف سکیورٹی نہیں۔ ان کے بقول ان اقدامات کے پسِ پشت مذہبی محرکات بھی کارفرما ہیں۔

دوسری جانب طالبان حکومت میں درمیانی سطح کے صرف تین شیعہ عہدیداروں میں شامل نائب وزیرِ معیشت عبداللطیف نظری اس صورتحال کو مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’شیعہ برادری بھی موجودہ صورتحال کو ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہے۔ مثال کے طور پر، شیعہ برادری کو سکیورٹی حاصل ہے۔ اسلامی امارت نے مذہبِ تشیع کو ختم نہیں کیا۔ اس نے ہزارہ اور شیعہ شہریوں کو ان کے شہری حقوق سے محروم نہیں کیا۔ یعنی شیعہ برادری کے شہریت کے حقوق کی نفی نہیں کی گئی۔ البتہ بعض پابندیاں یقیناً موجود ہیں۔‘

تاہم ممتاز شیعہ علما اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتے۔

مثال کے طور پر آیت اللہ واعظ زادہ بہسودی نے اپنی ایک حالیہ تنقیدی تقریر میں طالبان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کے عالم قابل احترام ہیں، لیکن ہمارے عالم کا احترام نہیں؟ آپ کے مذہب کا احترام ہے، لیکن ہمارے مذہب کا احترام نہیں؟ آپ کی فقہ کا احترام ہے، لیکن ہماری فقہ کا احترام نہیں؟ کیا یہی انصاف ہے؟‘

آیت اللہ واعظ زادہ کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں کے دوران شیعہ علما نے متعدد بار طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ سے ملاقات کی درخواست کی تاکہ وہ شیعہ برادری کے تحفظات، تجاویز اور مطالبات براہِ راست اُن کے سامنے رکھ سکیں، لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اُن میں سے کسی درخواست پر توجہ نہیں دی گئی۔

اُن کے بقول طالبان حکومت کے قیام کے پانچ سال گزر جانے کے باوجود کوئی بھی شیعہ عالم ہیبت اللہ اخوندزادہ سے براہِ راست ملاقات یا گفتگو کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جس کے باعث شیعہ برادری کے اندر اپنے مسائل اور خدشات کے حوالے سے بے چینی برقرار ہے۔

اہم شیعہ اداروں کی بندش

طالبان حکومت نے حال ہی میں شیعہ برادری کے دو اہم اداروں، خاتم النبیین علمی و تعلیمی مرکز اور تمدن ٹی وی، کو بند کر دیا ہے۔

حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ دونوں ادارے آیت اللہ محمد آصف محسنی کی قیادت میں قائم سیاسی جماعت حرکتِ اسلامی افغانستان سے وابستہ ہیں۔

تاہم شیعہ مذہبی اور سماجی اداروں نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ دونوں ادارے اُس وقت قائم کیے گئے تھے جب آیت اللہ محسنی حرکتِ اسلامی کی قیادت سے دستبردار ہو چکے تھے، لہٰذا انھیں کسی سیاسی جماعت سے منسلک قرار دینا درست نہیں۔

طالبان حکومت کے اس اقدام پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے آیت اللہ حجت نے کہا کہ ’انھوں نے تمدن ٹی وی بند کر دیا۔ انھوں نے خاتم النبیین مرکز کو بند کر دیا، جبکہ معاملہ قانونی طور پر زیرِ غور تھا۔ عدالت کو اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس کہ وزیرِ انصاف نے خود ہی حکم جاری کر دیا۔ یہ اقدام افغانستان کے عوام کے اتحاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔ تمدن ٹی وی نے اسلام کے سوا آخر کیا بات کی تھی؟‘

آیت اللہ حجت نے خاص طور پر محرم الحرام کے دوران، جو شیعہ برادری کے لیے انتہائی اہم مہینہ ہے، ان اداروں کی بندش کو ’شیعوں کے دل میں خنجر گھونپنے کے مترادف‘ قرار دیا۔

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران شیعہ برادری کے ساتھ طالبان حکومت کے رویّے کا جائزہ لینے والے ناقدین کا کہنا ہے کہ صورتِحال اُن یقین دہانیوں سے مختلف نظر آتی ہے جو طالبان کے اقتدار میں واپسی سے تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل امیر خان متقی نے شیعہ شہریوں کو کروائی تھیں۔

اس وقت امیر خان متقی نے کہا تھا کہ اسلامی امارت شیعہ اور سنی شہریوں کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں برتے گی اور دونوں کے ساتھ یکساں احترام کا سلوک کیا جائے گا۔

تاہم شیعہ علما اور برادری کے متعدد نمائندوں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر انھیں مذہبی نمائندگی، تعلیمی حقوق، فقہی آزادی اور اہم اداروں کے تحفظ کے حوالے سے مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔

اُن کے بقول موجودہ حالات میں شیعہ مذہبی رہنما اپنے بنیادی حقوق، مذہبی آزادیوں اور ریاستی اداروں میں مؤثر نمائندگی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ متعدد علما اس بات پر مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ اُن کے مطالبات اور تحفظات کو اب تک مطلوبہ توجہ نہیں مل سکی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US