کراچی کے سرکاری اسکولوں کے معیارِ تعلیم اور وہاں کے طلبہ کی شہر کے نمایاں سرکاری کالجوں تک رسائی کے حوالے سے تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں ٹاپ 10 سرکاری کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے والے ہر 100 میں سے تقریباً 93 طلبہ نجی اسکولوں کے جبکہ محض 7 سرکاری اسکولوں کے فارغ التحصیل ہیں۔
کالجوں سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ان 10 نمایاں اداروں میں مجموعی طور پر 13 ہزار 211 طلبہ و طالبات کو داخلہ دیا گیا، جن میں نجی اسکولوں سے میٹرک کرنے والوں کی تعداد 12 ہزار 264 (92.8 فیصد) اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی تعداد صرف 947 (7.2 فیصد) رہی۔
ادارہ جاتی تفصیلات کے مطابق آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج میں کل 613 داخلوں میں سے 585 نجی اور صرف 28 سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے حصے میں آئے، جبکہ گورنمنٹ ڈی جے سندھ سائنس کالج کے 1258 میں سے 1214 طلبہ نجی اور 44 سرکاری اسکولوں کے تھے۔ اسی طرح دہلی گورنمنٹ سائنس کالج میں 801 داخلوں میں 773 نجی اور 28 سرکاری، جبکہ گورنمنٹ بوائز کالج فار مین ناظم آباد کے 1317 داخلوں میں سے 1257 نجی اور 60 سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے حاصل کیے۔
سرکاری گرلز کالجوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں رہی، گورنمنٹ سر سید گرلز کالج میں کل 2507 طالبات میں سے 2266 نجی اور 241 سرکاری اسکولوں سے آئیں، جبکہ سینٹ لارنس گورنمنٹ گرلز کالج کی 691 طالبات میں 631 نجی اور 60 سرکاری اسکولوں سے آئیں۔ پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج فار ویمن میں 1517 میں سے 1420 نجی اور 97 سرکاری، نیز خاتونِ پاکستان گورنمنٹ کالج فار ویمن میں 2107 داخلوں میں 1876 نجی اور 231 سرکاری اسکولوں سے میٹرک کرنے والی طالبات شامل تھیں۔
مزید برآں، گورنمنٹ ڈگری کالج ملیر کینٹ (بوائز و گرلز) میں مجموعی طور پر 1402 میں سے 1316 طلبہ نجی اور صرف 86 سرکاری اسکولوں سے آئے، جبکہ گورنمنٹ ڈگری بوائز اینڈ گرلز کالج اسٹیڈیم روڈ کے 998 کل داخلوں میں سے 926 نجی اور صرف 72 سرکاری اسکولوں کے فارغ التحصیل طلبہ کو ملے۔