پی سی بی کے ڈائریکٹر اسپورٹس اینڈ ایکسرسائز میڈیسن ڈاکٹر جاوید مغل نے 'سٹریٹ ڈرائیو ود سلمان بٹ' شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا بنیادی ٹارگٹ ڈیٹا اور سائنسی ثبوت پر مبنی ایسا اسپورٹس سسٹم بنانا ہے جو بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جسے صرف درست سمت دکھانے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر جاوید مغل نے بتایا کہ پی سی بی نے کھلاڑیوں کی بیس لائن ٹیسٹنگ مکمل کر لی ہے اور ان کی فٹنس کو بہتر بنانے پر مسلسل کام جاری ہے۔ فٹنس کا قابل پیمائش ہونا لازمی ہے تاکہ کھلاڑیوں کی پروگریس کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔ اس مقصد کے لیے قومی کھلاڑیوں کے لیے 24 مختلف ٹیسٹس پر مشتمل ایک خصوصی ٹیسٹنگ بیٹری متعارف کروائی گئی ہے، جس میں 39 فٹنس مارکرز شامل ہیں، جبکہ انڈر 15 سے لے کر قومی ٹیم تک درجاتی طریقے سے فٹنس ٹیسٹس کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بورڈ نے آتے ہی 'پاس یا فیل' کا روایتی ٹیسٹنگ نظام لاگو کرنے کی بجائے پہلے کھلاڑیوں کی موجودہ فٹنس کا معیار معلوم کیا۔ ریڈ بال اور وائٹ بال کیمپس کے دوران فٹنس ٹیسٹ لینے کے بعد ہر کھلاڑی کے ساتھ انفرادی میٹنگ کی گئی اور اب ہر چار ماہ بعد کھلاڑیوں کی فٹنس باقاعدگی سے چیک کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو فٹنس کے مختلف پہلوؤں پر تعلیم بھی دی جا رہی ہے اور ان کا تمام ڈیٹا ایتھلیٹ منیجمنٹ سسٹم (AMS) کے ذریعے محفوظ کیا جا رہا ہے۔ سیزن اور آف سیزن کے لیے بھی علیحدہ فٹنس روٹینز تیار کی گئی ہیں۔
ڈائریکٹر اسپورٹس میڈیسن نے مزید کہا کہ پی سی بی اپنے تمام سٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچز کی قابلیت اور مہارت میں اضافے پر بھی کام کر رہا ہے اور انہیں اسپورٹس سائنس و ایکسرسائز کا ڈپلومہ کروایا جائے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 'سپورٹس میڈیکل ایسوسی ایشن' بنانے کا بھی عزم کیا ہے، جس کے تحت پاکستان بھر کے اسپورٹس سائنس پروفیشنلز کی ہر دو ماہ بعد باقاعدگی سے میٹنگ منعقد کی جائے گی۔