شگفتہ اعجاز نے خوف کو شکست دے دی، بیٹی کے اصرار پر زِپ لائن کا تجربہ

image

معروف اداکارہ شگفتہ اعجاز ان دنوں برطانیہ میں اپنی بیٹی انیا کے ساتھ وقت گزار رہی ہیں جہاں سیر و تفریح کے دوران انہوں نے ایک ایسا تجربہ بھی کرلیا جس سے وہ ابتدا میں خاصی گھبرا رہی تھیں۔

اداکارہ نے ویلز میں زِپ لائن رائیڈ کی جس کی ویڈیو انہوں نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں شیئر کی۔ شگفتہ اعجاز کے مطابق وہ شروع میں اس سرگرمی کے لیے بالکل تیار نہیں تھیں اور کئی بار انکار بھی کیا تاہم بیٹی انیا کے اصرار پر آخرکار انہوں نے ہمت کرکے زِپ لائن کا چیلنج قبول کرلیا۔

رائیڈ مکمل ہونے کے بعد اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ ان کی توقع سے کہیں زیادہ اچھا نکلا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ عقاب کی طرح ہوا میں اڑ رہی ہوں اور اب وہ سوچ رہی ہیں کہ اس سے پہلے یہ تجربہ کیوں نہیں کیا۔

انیا نے بھی ولاگ میں بتایا کہ والدہ آخری وقت تک زِپ لائن کرنے سے ہچکچا رہی تھیں حتیٰ کہ فیس ادا کرنے کے موقع پر بھی وہ تیار نہیں تھیں۔ تاہم بیٹی کے مسلسل اصرار نے انہیں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کردیا۔

شگفتہ اعجاز نے بیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس تجربے پر خوشی ہے اور وہ اچھا محسوس کررہی ہیں کہ انیا نے انہیں اپنی ہچکچاہٹ پر قابو پانے کے لیے آمادہ کیا۔ اداکارہ نے اپنے ولاگ کے کیپشن میں بھی بتایا کہ انہوں نے آخرکار اپنے خوف کا سامنا کرلیا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا تقسیم ہوگئیں۔ کئی مداحوں نے شگفتہ اعجاز کے حوصلے اور زندگی کو بھرپور انداز میں گزارنے کے جذبے کو سراہا جبکہ کچھ لوگوں نے ان کی عمر کو بنیاد بنا کر اس سرگرمی پر اعتراض کیا۔

بعض صارفین نے انیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور آئندہ والدہ کو ایسی سرگرمیوں میں شامل کرنے سے گریز کا مشورہ دیا۔ ایک صارف نے کہا کہ اس عمر میں ایسا تجربہ کیا جاسکتا ہے، تاہم کسی بھی مہم جوئی میں خطرے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب کئی مداحوں نے انیا کے رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو صرف گھر تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے ساتھ گھومنے پھرنے اور نئے تجربات کا موقع دیتی ہیں۔ مداحوں کا کہنا تھا کہ عمر اپنی جگہ، لیکن اگر سرگرمی محفوظ طریقے سے کی جائے تو نئی چیز آزمانے کی کوئی خاص عمر نہیں ہوتی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US