پاکستان کے اوپننگ بلے باز عبداللہ شفیق نے ٹیسٹ ٹیم میں شاندار واپسی کرتے ہوئے ویسٹ انڈیز کے خلاف پورٹ آف اسپین میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں 160 اور ناٹ آؤٹ 24 رنز کی بہترین اننگز کھیل کر قومی ٹیم کو 8 وکٹوں سے فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی پاکستان نے سیریز 1-1 سے برابر کر دی۔
قومی کپتان شان مسعود کی جگہ فائنل الیون میں شامل کیے جانے والے عبداللہ شفیق کے لیے یہ میچ کئی لحاظ سے تاریخی رہا۔ یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کا چھٹا سینکڑا تھا جبکہ ویسٹ انڈیز کی سر زمین پر 49 سال بعد کسی بھی پاکستانی بلے باز کا یہ پہلا 150 سے زائد کا اسکور ہے۔ عبداللہ شفیق کو اس میچ میں پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں نمبر 3 پر بیٹنگ کا موقع ملا، جس پر وہ پورا اترے۔
عبداللہ شفیق نے اپنی اس کامیابی کا سہرا پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو کی محنت کے سر باندھا، جہاں انہوں نے ایم آئی ٹی سلوشنز کی نمائندگی کرتے ہوئے مختلف کنڈیشنز میں سخت گرمی کے باوجود طویل اننگز کھیلنے کی مشق کی اور اپنی ٹیم کو چیمپئن بنایا۔ اس سفر میں ان کے دوست سیف نے تھرو ڈاؤنز کروا کر ان کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف کامیابی کے بعد عبداللہ شفیق نے آئندہ دورہ انگلینڈ کے لیے بھی اپنے عزم کا اظہار کیا ہے، جہاں 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں وہ ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔ ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر اور مبصر ایان بشپ کی جانب سے (ٹیکسٹ بک بیٹر) قرار دیے جانے پر عبداللہ شفیق نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹنگ کی بہترین تکنیک ان کے والد اور چچا کی محنت کا نتیجہ ہے جو خود بھی فرسٹ کلاس کرکٹرز رہ چکے ہیں۔